پاکستان، بھارت نےکبھی معافی نہیں مانگی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تقسیم کے دوران دونوں نے ایک دوسرے پر بہت ظلم کیے لیکن ستر برس کے بعد بھی کبھی ایک دوسرے سے اس کے لیے معافی نہیں مانگی

ریسٹورنٹ کے اندر ٹی وی فل ویلیوم میں چل رہا ہے اور پاکستانی ٹی وی اینکر پورے جوش میں چلا رہا ہے۔ وہاں بیٹھے دو صاحب تقریباً اتنے ہی جوش و خروش کے ساتھ مرغ کی ٹانگ نوچ رہے ہیں۔

نظریں ٹی وی پر لگی ہوئی ہیں اور ہڈیاں چباتے چباتے درمیان میں سیاست دانوں پر لعنت ملامت بھی کر رہے ہیں۔ یہ ہے امریکہ میں لٹل پاکستان کی ایک جھلک۔

اب چلتے ہیں منی انڈیا۔ مٹھائی کی دکان میں بھارتی ٹی وی اینکر بھی اتنے ہی زور شور سے چیخ و پکار میں لگا ہے۔ دکان میں چائے اور بسکٹ کے درمیان مودی جی کی تعریف بھی ہو رہی ہے۔

امریکہ میں نہ جانے کتنے ایسے لٹل اور منی ملک آباد ہیں۔ جو جہاں سے اكھڑا وہاں کے کچھ ٹکڑے ساتھ لے آیا اور انہیں یہاں بكھیركر اپنی جڑوں کو زندہ رکھنے کی کوشش کرنے لگا۔

ان علاقوں کی دکانوں میں اور ایسے اڈوں پر امریکہ کہیں سے بھی نہیں نظر آتا۔ نواز شریف اور پاناما پیپرز کی بات ہو یا بھارت سے کرپشن کی نئي خبر آ رہی ہو، یہاں رہنے والوں کو اس کی پوری خبر رہتی ہے، کئی بار تو شاید بھارت اور پاکستان میں رہنے والوں سے بھی زیادہ ان کی توجہ رہتی ہے۔

Image caption بھارتی اور پاکستانی دونوں ہی ستّر برس سے ایک دوسرے کے خلاف غبار کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں

لیکن یہاں سی این این، فوکس نیوز، نیویارک ٹائمز یا واشنگٹن پوسٹ نہیں نظر آتے۔ البتہ اردو، ہندی اور گجراتی اخبار نظر آتے ہیں۔

تو ایسے میں جب وہاں امریکی انتخابات کی بات کرنے پہنچے تو سوال و جواب کچھ یوں ہوتے ہیں۔

جناب آپ لوگوں کے لیے اس الیکشن میں اہم مسئلہ کیا ہے؟

بس جی، مسئلہ تو کوئی بھی نہیں ہے۔ اللہ کا شکر ہے سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔

تو یہاں جو ٹرمپ صاحب امیگریشن پر باتیں کر رہے ہیں، مسلمانوں کو یہاں آنے سے روکنے کی بات کر رہے ہیں، روزگار صرف امریکیوں کو دینے کی بات کر رہے ہیں اس کے بارے میں کیا خیال ہے آپ کا؟

غلط بات ہے جی۔

تو ووٹ ڈالنے جائیں گے یا نہیں؟

پورے جوش کے ساتھ کہتے ہیں۔۔۔۔۔ ہاں جی بالکل جائیں گے۔

ووٹ کسے دیں گے؟

ہلیری كلنٹن کو۔۔۔۔

کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ MEA

كيونکہ وہ پاکستان کے لیے صحیح ہے جی۔۔۔۔۔ پاکستان کا بھلا کرے گی وہ۔۔۔۔

پھر ملاقات ہوئی دو بھارتی نژاد امریکیوں سے جو پورے زور و شور کے ساتھ ٹرمپ کا ساتھ دے رہے ہیں۔

کیوں؟

جواب آتا ہے۔۔ ۔۔۔ کیونکہ وہی ہے جو پاکستان کو سبق سکھا سکتا ہے۔

تھوڑا سا کریدنے پر کہتے ہیں۔۔۔۔۔ یہ اوباما بھارت بھارت کرتا ہے، مودی سے گلے ملتا ہے اور پاکستان کو ایف 16 فروخت کرتا ہے۔ ڈیموكریٹ نے آج تک بھارت کا بھلا نہیں کیا، رپبلكن جارج بش نے جو ہمارے لیے کیا ویسا کسی نے نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انتخابات امریکہ میں ہورہے ہیں اور مقابلہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن میں ہے لیکن مسائل بھارت اور پاکستان کے ہیں

یعنی الیکشن امریکہ میں اور مسائل بھارت اور پاکستان کے۔

مجھے لگتا ہے ہم دیسی ویسے بھی بہت سارا سامان لے کر چلنے کے لیے بدنام ہیں۔ ایئر پورٹ ہو یا ریلوے سٹیشن ہو، عام طور پر سب سے بڑے سوٹ کیسز اور گٹھرياں ہماری ہی ہوتی ہیں۔ اکثر اضافی سامان نکالنے کی ضرورت یا اس کی فیس کے لیے جھک جھک کرتے ہم ہی نظر آتے ہیں۔

اور ساتھ میں ہم ستر برس سے ایک اور بیگج بھی ڈھو رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ بیگج اور بھاری ہی ہوتا جا رہا ہے۔ دیسی امریکہ میں امریکی خواب کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ پرانی گٹھری بھی ڈھو رہے ہوتے ہیں۔

یہاں ڈونلڈ ٹرمپ کے چاہنے والوں میں ایک بھارتی سکھ اور ایک پاکستانی مسلمان بھی ہیں۔ جسديپ سنگھ اور ساجد طرار۔ دونوں کا ذکر میں پہلے بھی کر چکا ہوں۔ دونوں بہت اچھے دوست ہیں اور کافی کامیاب بزنس ہے یہاں ان کا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ٹرمپ صاحب امیگریشن پر باتیں کر رہے ہیں، مسلمانوں کو یہاں آنے سے روکنے کی بات کر رہے ہیں، روزگار صرف امریکیوں کو دینے کی بات کر رہے ہیں

بات چیت کے دوران جسديپ سنگھ نے ایک بات کہی تھی جو میرے ساتھ رہ گئی۔

انھوں نے کہا: ’تقسیم کے دوران ہم دونوں نے ایک دوسرے پر بہت ظلم کیے۔ لیکن ذرا سوچیے ستر برس کے بعد بھی کبھی ہم نے ایک دوسرے سے اس کے لیے معافی نہیں مانگی۔‘

بھارتی جیل میں برسوں قید رہنے والے اور پولیس کی اذیت سے گزرے ایک امریکی قیدی نے اپنی کتاب میں ایک بات لکھی تھي: ’اگر میں معاف نہیں کرتا تو بھول نہیں پاتا۔ اس لیے میں نے ان پولیس والوں کو معاف کر دیا۔‘

سوچ کر دیکھیے گا۔ تین چار جنگیں کر لیں، ہر دوسرے، تیسرے مہینے بات چیت کی کوششیں بھی کر لیتے ہیں، پھر ایک دوسرے کو کبھی دہلی سے تو کبھی اسلام آباد سے تو کبھی اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر سے کھری کھوٹی بھی سنا ڈالتے ہیں لیکن بدلتا کچھ بھی نہیں ہے۔

کیا پتہ ایک دوسرے سے معافی مانگ لیں، تو شاید آپ اور ہم بھی بھول سکیں۔ کچھ زیادہ ہی آسان سا نسخہ ہے، لیکن کیا پتہ کسی جڑی بوٹی کی طرح کام کر جائے۔

اسی بارے میں