16 سال بعد دو امریکی کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لو اور برجز دوست تھے اور کوہ پیمائی کے ساتھی بھی

ہمالیہ کے ایک گلیشیئر میں 16 سال بعد دو امریکی کوہ پیماؤں کی لاشیں ملی ہیں جو برف کے ایک بڑے تودے کے نیچے دب کر ہلاک ہو گئے تھے۔

دنیا کے معروف کوہ پیما ایلکس لو سنہ 1999 میں کیمرا مین ڈیوڈ برِجز کے ساتھ تبت کی 8013 میٹر اونچی چوٹی شیشہ پنگما کو سر کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کے اوپر تودہ آ گرا۔ پچھلے ہفتے دو کوہ پیماؤں کو ان کی برف میں دبی ہوئی لاشیں ملیں۔

لو کی بیوہ جینیفر لو اینکر کا کہنا تھا کہ وہ ’وقت میں منجمد‘ ہو گئے ہیں۔

40 سالہ لو کا شمار اپنے زمانے کے عظیم کوہ پیماؤں میں ہوتا تھا۔ وہ دوسرے کوہ پیماؤں کی جانیں بچانے کے لیے بھی مشہور تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لو کی بیوہ جینیفر لو اینکر کا کہنا تھا کہ وہ ’وقت میں منجمد‘ ہو گئے ہیں

لو اور 29 سالہ برجز دوست بھی تھے اور کوہ پیمائی کے ساتھی بھی۔ وہ دنیا کی 14ویں سب سے اونچی چوٹی شیشہ پنگما کی چوٹی تک پہنچنے کا راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے تھے۔

لو کی بیوہ جینیفر اینکر نے جمعے کو ان کی لاشوں کی دریافت کا اعلان کیا جو اب اپنے موجودہ خاوند کونریڈ اینکر کے ساتھ اپنے پچھلے خاوند کی یاد میں ایک فلاحی تنظیم چلا رہی ہیں۔

اینکر بھی شیشہ پنگما میں اسی دن موجود تھے اور وہ بھی برف کے تودے کی زد میں آئے تھے تاہم وہ معمولی زخمی ہوئے۔

انھوں نے کئی دنوں تک دوسرے کوہ پیماؤں کے ساتھ مل کر لاشیں ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ 2001 میں انھوں نے ایلکس کی بیوہ سے شادی کر لی اور ان کے دونوں بچوں کی کفالت اپنے ذمے لے لی۔

جوڑے کو لاشوں کی خبر کوہ پیما ڈیوڈ گوٹلر اور یویلی سٹیک سے اس وقت ملی جب وہ نیپال میں اپنی فلاحی تنظیم کے کام کے سلسلے میں مصروف تھے۔ لو اینکر نے بتایا کہ انھیں بتایا گیا کہ دونوں لاشیں ’اب بھی نیلی برف کے اندر موجود ہیں جو اب گلیشیئر سے آہستہ آہستہ باہر آ رہی ہیں۔‘

فلاحی تنظیم کے ایک بیان کے مطابق اینکر کا کہنا تھا کہ جب انھیں لاشوں کے کپڑوں اور ساز و سامان کی تفصیل بتائی گئی تو انھیں یقین ہو گیا کہ وہ لو اور برجز کی ہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ

اینکر نے اس بارے میں کہا کہ ’اس سے جینی اور ہمارے خاندان کو سکھ اور دل کا سکون ملا ہے۔‘ لو اینکر کا کہنا تھا کہ اب وہ اپنے شوہر اور بیٹوں کے ساتھ شیشہ پنگما کا سفر کریں گی تاکہ ’ایلکس کو دفنا سکیں۔‘

اسی بارے میں