شامی شہر حلب میں عارضی جنگ بندی کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ دو ہفتوں کے دوران حلب میں شدید ہونے والی لڑائی میں 300 سو کے قریب لوگ مارے جا چکے ہیں

امریکہ اور روس کے دباؤ کے بعد حلب میں شامی حکومت اور باغی گروہوں نے 48 گھنٹوں کے لیے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

اس سے پہلے منگل اور بدھ کی درمیانی رات حکومت اور باغیوں میں منقسم اس شہر میں باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان خوفناک جھڑپوں میں درجنوں لوگوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

* حلب کی صورتحال ’تباہ کن‘ ہو چکی ہے: اقوام متحدہ

* اسد کی حکمت عملی سے خانہ جنگی نہیں رکے گی: امریکہ

شامی فوج کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی 48 گھنٹوں تک رہی گی جو جمعرات کو مقامی وقت ایک بجے سے شروع ہوگی۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم توقع کرتے ہیں کہ اس جنگ بندی سے حلب میں جاری جنگ مکمل ختم ہو جائے۔‘

اس سےپہلے شام میں انسانی حقوق کے نگراں ادارے نے بتایا کہ منگل کی شام کو باغیوں نے حکومتی اختیار کے علاقے میں پیش قدمی کی لیکن بدھ کی صبح تک انھیں واپس دھکیل دیا گیا۔

ادارے کے مطابق یہ لڑائی گذشتہ ایک سال کے عرصے میں ہونے والی شدید ترین لڑائی تھی۔

بعد ازاں امریکہ نے کہا ہے کہ روس کے یہ معاہدہ طے پا گیا ہے کہ جنگ بندی کے علاقوں میں حلب کو بھی شامل کیا جائے۔

گذشتہ دو ہفتوں کے دوران حلب میں شدید ہونے والی لڑائی میں 300 سو کے قریب لوگ مارے جا چکے ہیں۔

شام میں فریقین کے حامیوں امریکہ اور روس نے فروری کے آخر میں جنگ بندی کروائی گئی جو اب خاتمے کے قریب ہے۔

منگل کو باغیوں کے ایک اتحاد نے ’فتح حلب‘ کے نام سے شہر کے مغربی حصے میں پیش قدمی کی۔ رات بھر گولیوں کا تبادلہ ہوا، آرٹلری فائر کی گئی اور فضائی حملے ہوتے رہے۔ بدھ کو بھی وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہیں۔

کارکنوں کے مطابق جنگ بندی کی مدت کے خاتمے کے بعد حکومتی جنگی طیاروں نے دمشق کے نواح میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں کم سے کم 20 فضائی حملے کیے۔

بدھ کو امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اعلان کیا کہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے روس کے سات اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔

النصرہ اور القاعدہ کے گروہ اس جنگ بندی میں شامل نہیں ہیں۔

شامی حکومت اور اس کے اتحادی روس کا کہنا ہے کہ حلب میں صرف النصرہ کے اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جبکہ شام کی حزبِ اختلاف اور امریکہ کا الزام ہے کہ ان حملوں میں بلاتفریق شہریوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں