’صدر سے اختلافات‘، ترک وزیرِ اعظم کا مستعفی ہونے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ترکی کے وزیر اعظم داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ وہ 22 مئی کو بلائے گئے جسٹس پارٹی کے غیر معمولی اجلاس میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

اطلاعات ہیں کہ صدر طیب رجب اردوغان سے اختلافات کے باعث انھوں نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم اپنی تقریر میں داؤد اوغلو نے کہا کہ وہ صدر اردوغان کی حمایت جاری رکھیں گے اور ان کو کسی پر غصہ نہیں ہے۔

جسٹس پارٹی کے اجلاس میں نئے وزیر اعظم کا انتخاب کیا جائے گا۔

جماعت کی کانگریس کا اجلاس 22 مئی کو رکھا گیا ہے۔ یہ اجلاس وزیر اعظم کی کانگریس کی ایگزیکٹیو کمیٹی سے ملاقات کے بعد رکھا گیا ہے۔

صدر اردوغان اور وزیر اعظم داؤد اوغلو کے درمیان بدھ کو ملاقات ہوئی جس کے بعد سے دونوں کے اختلافات کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

وزیر اعظم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ صدر اردوغان ترکی میں صدارتی نظام حکومت لانا چاہتے ہیں جبکہ وزیر اعظم اس منصوبے کے خلاف ہیں۔

اس سے قبل صدارتی ترجمان نے کہا کہ نئے وزیر اعظم کی نامزدگی کے بعد انتخابات کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔

انھوں نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک اور معیشت میں استحکام آئے گا جب نیا وزیر اعظم صدر کے ساتھ بہتر طور پر کام کرے گا۔

تاہم وزیر اعظم کے دفتر نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم جلد ہی بیان جاری کریں گے۔

یہ اب کیوں ہو رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP

2014 میں صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اردوغان نے احمد داؤد اوغلو کو اے کے پارٹی کے سربراہ کے طور پر منتخب کیا۔ لیکن صدارتی نظام حکومت کی جانب جانے کے منصوبے اور دیگر پالیسیوں کے باعث گذشتہ چند ماہ سے صدر اور وزیر اعظم کے درمیان اختلافات واضح ہو گئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے داؤد اوغلو سے اے کے پارٹی کے صوبائی عہدیدار تعینات کرنے کے اختیارات بھی واپس لے لیے گئے۔

اگلا وزیر اعظم کون؟

داؤد اوغلو کی جگہ اگلے وزیر اعظم کے لیے جو نام لیے جا رہے ہیں ان میں وزیر برائے ٹرانسپورٹ بن علی یلدرم اور وزیر برائے توانائی بیرت البیراک ہیں۔

یلدرم کو صدر اردوغان کے بہت قریب تصور کیا جاتا ہے جبکہ البیراک صدر اردوغان کے داماد ہیں۔

اگلے وزیر اعظم کو باقاعدہ طور پر 22 مئی کو ہونے والے کانگریس کے اجلاس میں منتخب کیا جائے گا۔

اسی بارے میں