زیک سمتھ: ارب پتی کے بیٹے، جمائما کے بھائی

تصویر کے کاپی رائٹ getty

لندن شہر کے میئر کے انتخاب میں برطانیہ کی قدامت پسند پارٹی کی طرف سے زیک گولڈ سمتھ حصہ لے رہے ہیں۔

زیک گولڈ سمتھ ارب پتی بزنس مین آنجہانی سر جیمز گولڈ سمتھ کے صاحبزادے ہیں اور انھوں نے لندن کے اعلیٰ ترین سکول ایٹن میں ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کیمبرج سینٹر سے اے لیول کی تعلیم مکمل کی۔

زیک گولڈ سمتھ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایکالوجسٹ میگزین کے مدیر کے طور پر کام کرتے رہے۔

انھوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز جنوب مغربی لندن کے علاقے رچمنڈ پارک سے سنہ 2010 پارلیمان کے انتخابات میں حصہ لے کر کیا۔ اس انتخابی حلقے سے انھوں نے سنہ 2015 میں کنزرویٹیو جماعت کی طرف سے دوبارہ کامیابی حاصل کی اور ان انتخابات میں ان کی مقبولیت میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ انتخابی حلقہ ماضی میں لبرل ڈیموکریٹ کے پاس رہا تھا۔

وہ ماحولیات کے مسائل کے حوالے سے بہت سرگرم رہے ہیں اور انھوں نے لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے کو وسعت دینے کے منصوبے کی بھی کھل کر مخالفت کی تھی۔

زیک گولڈ سمتھ نے سنہ 2012 میں اعلان کیا تھا کہ اگر ان کی جماعت نے اس منصوبے کی حمایت کی تھی وہ اپنے رکنیت سے مستعفی ہو جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

وہ ووٹروں کے لیے زیادہ اختیارات حاصل کرنے کی مہم بھی چلاتے رہے ہیں اور ایک قانون منظور کروانے چاہتے تھے جس میں ووٹروں کو منتخب نمائندے سے اپنا حق نمائندگی واپس لینے کا اختیار دینے کی بات کی گئی تھی۔ حکومت نے سنہ 2014 میں اس طرح کا ایک قانون بنایا لیکن وہ زیک گولڈسمتھ کی مرضی کے مطابق نہیں تھا۔

اسی اصول کی بنیاد پر لندن کے میئر کا انتخاب لڑنے سے قبل انھوں نے اپنے حلقے میں ایک ریفرینڈم کروایا تاکہ وہ اپنے ووٹروں کی اس بارے میں رائے معلوم کر سکیں۔

ان کے حلقے کے ووٹروں نے لندن کے میئر کے انتخاب ان کے حصہ لینے کے حق میں فیصلہ دیا جس کے بعد انھوں نے لندن کو زیادہ ’سرسبز، خوشحال، مطمئن اور متحدہ شہر‘ بنانے کا عزم کیا۔

زیک گولڈ سمتھ اپنے پیش رو بورس جانسن کی روایات کو لے کر آ گے چلانا چاہتے ہیں۔ ان روایات میں میئر کے زیر اختیار کونسل ٹیکس میں اضافہ نہ کرنے اور لندن کے ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مزید فنڈ فراہم کرنا شامل ہے۔

زیک گولڈ سمتھ نے لندن میں رہائش کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنہ 2020 تک ہر سال 50 ہزار مکانات تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور ساتھ ہی انھوں نے لندن میں ’گرین بیلٹ‘ کو بھی محفوظ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اسی بارے میں