پاناما پیپرز لیک کرنے والا شخص’حکام کی مدد کو تیار‘

پاناما پیپرز کو لیک کرنے والے نامعلوم شخص نے لب کشائی کرتے ہوئے معافی کے بدلے حکام کی مدد کرنے کی پیشکش کی ہے۔

انھوں نے یہ پیشکش 1800 الفاظ پر مشتمل ایک بیان میں کی ہے۔

’جان ڈو‘ نے انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے کبھی بھی کسی خفیہ ایجنسی یا حکومت کے لیے کام نہیں کیا۔

انھوں نے اپنے بیان کے آغاز میں کہا ہے کہ پاناما پیپرز افشا کرنے کا مقصد ’معاشی مساوات‘ تھا۔

پاناما پیپرز سے ظاہر ہوا ہے کہ کیسے کچھ امرا ٹیکس اور پابندیوں سے بچنے کے لیے کیسے آف شور کمپنیز کو استعمال کرتے ہیں۔

جان ڈو کا بیان ایسے وقت آیا ہے جب کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر براک اوباما نے معیشت پر خطاب کیا۔ اس خطاب میں صدر اوباما نے پاناما پیپرز کا ذکر کرتے ہوئے بدعنوانی اور ٹیکس چوری جیسے مسائل پر بات کی۔

صدر اوباما نے مزید کہا کہ امریکہ بینکوں سے چاہے گا کہ وہ ان لوگوں کی شناخت ظاہر کریں جو ان کمپنیوں کی آڑ میں کام کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ پاناما پیپرز کا تعلق لا کمپنی موساک فونسیکا سے تھا۔ اس کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

پاناما لیکس میں سینکڑوں سیاستدانوں، حکام، موجودہ اور سابق قومی لیڈروں، مشہور شخصیات اور کھیلوں کی دنیا سے تعلق رکھنے والے افراد کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

اگرچہ اس بیان میں ’جان ڈو‘ کا نام استعمال کیا گیا ہے لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ آیا یہ شخص مرد ہے یا عورت۔

بیان میں جان ڈو نے کہا کہ ’معاشی مساوات ہمارے وقت کا سب سے اہم ایشو ہے۔ بینک، مالی ریگولیٹرز اور ٹیکس اتھارتی ناکام ہو چکے ہیں۔ فیصلے کیے جاچکے ہیں کہ امرا کو بچانا ہے اور متوسط اور کم آمدنی والے طبقوں کو قابو میں رکھنا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اصل دستاویزات تک رسائی حاصل کر سکیں اور ان کا معائنہ کریں تو پاناما پیپرز کی تحقیقات سے ہزاروں افراد کے خلاف مقدمے بن سکتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ پاناما پیپرز کی تحقیق سینکڑوں صحافیوں نے کی اور ان صحافیوں نے یہ تحقیقات انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کے ساتھ کیں۔

جان ڈو نے بیان میں کہا ہے کہ آئی سی آئی جے اور دیگر صحافیوں نے بالکل صحیح کہا ہے کہ وہ یہ دستاویزات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے نہیں کریں گے۔

’تاہم میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جس حد تک تعاون کر سکا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ غلط کاموں کی نشاندہی کرنے والوں کو حکومت کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی سے استثنیٰ ملنا چاہیے۔‘

اپنے بارے میں افواہوں کا جواب دیتے ہوئے بیان میں جان ڈو نے کہا ہے کہ ’میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں براہ راست یا بطور کنٹریکٹر نہ تو کسی حکومت کے لیے کام کرتا ہوں اور نہ کسی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرتا ہوں اور نہ ہی کبھی کیا۔‘

جان ڈو کا کہنا ہے کہ عالمی عدالتی نظام ٹیکس بچانے کے لیے استعمال کیے جانے والے ممالک پر قابو پانے میں بالکل ناکام ہو گیا ہے۔

’میں نے فونسیکا کا پول اس لیے کھولا کہ کیونکہ میرے خیال میں اس کے بانی، ملازمین اور گاہکوں کو اپنے کیے کا جواب دینا چاہیے۔ اور فی الحال بہت کم نام افشا ہوئے ہیں۔ ان کاموں کی مکمل تفصیلات سامنے آنے میں کئی سال یا ممکن ہے کئی دہائیاں لگ جائیں۔

اسی بارے میں