’اس عہدے کا حلف اٹھانا بہت اعزاز کی بات ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

لندن کے میئر کا انتخاب جیتنے والے صادق خان نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ صادق خان نے اپنے عہدے کا حلف ایک کثیر المذہبی تقریب میں اٹھایا جس کا انعقاد لندن کے ایک قدیم گرجا گھر ’سدک کیتھیڈرل‘ میں کیا گیا تھا۔ اس میں بڑی تعداد میں شہر کی اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔

صادق خان کسی بھی مغربی ملک کے دارالحکومت کے پہلے مسلمان میئر ہیں۔

حلف برداری کی تقریب کے بعد اپنی ایک ٹوئٹ میں صادق خان کا کہنا تھا کہ لندن کا میئر بننا ان کے لیے بہت اعزاز کی بات ہے۔

سکاٹ لینڈ کے انتخابات میں ناکامی کے بعد محمد صادق کی یہ جیت لیبر پارٹی کے لیے اہم ہے۔

٭ صادق خان، لندن کے پہلے مسلمان میئر (تصاویر)

٭ صادق خان: بس ڈرائیور کے بیٹے کا لمبا سفر

٭ زیک سمتھ: ارب پتی کے بیٹے، جمائما کے بھائی

شہر کی چودہ کونسلوں کے نتائج سامنے آنے کے بعد صادق خان کنزرویٹو پارٹی کے زیک گولڈ سمتھ پر سبقت حاصل کی لیکن وہ مجموعی ووٹوں کے 50 فیصد ووٹ حاصل نہیں کر پائے جس کی وجہ سے ووٹوں میں دوسری ترجیح کی گنتی کی گئی۔

انتخابات میں کامیابی کے بعد صادق خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ کبھی تصور نہیں کر سکتے کہ ’ان جیسا کوئی لندن کا میئر منتخب ہوگا۔‘ انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ ’تمام لندن والوں‘ کے میئر ثابت ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ انتخابی مہم تنازعے سے عاری نہیں تھی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ لندن نے آج خوف کے بجائے امید کا انتخاب کیا ہے۔‘

صادق خان نے کہا کہ ’خوف کی سیاست کو اس شہر میں خوش آمدید نہیں کیا جائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

دوسری جانب سکاٹ لینڈ میں ایس این پی لگاتار تیسری بار کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہے اور وہ اپنی اقلیت کی حکومت بنائے گي۔

ویلز میں لیبر پارٹی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہے اور اسے 60 میں سے 29 سیٹیں آئی ہیں جبکہ پلائٹ کائمرو اور یوکے آئي پی کو بھی فائدے ہوئے ہیں۔ ناردرن آئر لینڈ میں ابھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

لندن کے میئر کے لیے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی شہر میں بنائے گئے تین خصوصی مراکز میں جمعے کی صبح مقامی وقت کے مطابق آٹھ بجے شروع ہوئی۔

مئیر کے لیے میدان میں کل 12 امیدوار ہیں جن میں سے اصل مقابلہ لیبر پارٹی کے صادق خان اور کنزرویٹو پارٹی کے زیک گولڈ سمتھ کے درمیان تھا۔

صادق خان کو 13 لاکھ دس ہزار 143 ووٹ آئے جبکہ ان کے مخالف ٹوری پارٹی کے زیک گولڈسمتھ کو نو لاکھ 94 ہزار 614 ووٹ آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption لیبر جماعت لندن اسمبلی کی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے اور اس نے گیارہ کونسلوں میں سے نو میں کامیابی حاصل کی ہے

صادق خان کی فتح سے لندن کے سٹی ہال پر آٹھ برسوں سے جاری کنزرویٹیو پارٹی کا راج ختم ہو گيا ہے۔

45 سالہ لیبر ایم پی اور وزیر کین لونگسٹن اور بورس جانسن کے بعد پارٹی کے تیسرے میئر ہیں۔

لیبر جماعت لندن اسمبلی کی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے اور اس نے گیارہ کونسلوں میں سے نو میں کامیابی حاصل کی ہے۔

پول کیے جانے والے کل ووٹوں میں سے 43 فیصد لیبر پارٹی کو حاصل ہوئے جب کہ کنزرویٹو پارٹی کے حصہ میں 31 فیصد ووٹ آئے اور ’گرین پارٹی‘ تیسرے نمبر پر رہی۔

جمعرات کو ہونے والی پولنگ میں ووٹ ڈالے جانے کا تناسب 45 فیصد رہا جو سنہ 2012 میں ہونے والے انتخابات کے مقابلے میں سات فیصد زیادہ ہے۔

لندن کی تمام کونسلز میں انتخابی نتائج میں سنہ 2012 کے مقابلے میں کوئی سیاسی تبدیلی نہیں سوائے مرٹن اور وانڈز ورتھ کے جہاں لیبر نے کنزرویٹو کو ہرا دیا۔

لندن کے میئر کو ٹرانسپورٹ، پولیس، ماحولیات، ہاؤسنگ اور پلاننگ جیسے اہم شعبوں میں مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے اور لندن اسمبلی کے ارکان میئر کی پالیسیوں پر نظر رکھتے ہیں۔

لندن شہر کی اسمبلی گیرٹر لندن اتھارٹی کے بجٹ کی منظوری میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔ میئر کی پالیسیوں کو لندن اسمبلی مسترد بھی کر سکتی ہے اور مجوزہ بجٹ میں ترمیم کا بھی اختیار رکھتی ہے لیکن اس کے لیے اس کے دو تہائی ارکان کی منظوری درکار ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption پول کیے جانے والے کل ووٹوں میں سے 43 فیصد لیبر پارٹی کو حاصل ہوئے جب کہ کنزرویٹو پارٹی کے حصہ میں 31 فیصد ووٹ آئے

شیفیلڈ میں خطاب کرتے ہوئے لیبر پارٹی کے رہنما جرمی کوربن نے کہا کہ کنزرویٹو پارٹی کے امیدوار زیک گولڈ سمتھ نے صادق خان کے خلاف کردار کشی کی مہم شروع کی اور انھیں شدت پسندوں سے جوڑنے کی کوشش کی جس سے لیبر پارٹی کو فائدہ ہوا۔

انھوں نے کہا کہ ’کنزرویٹو پارٹی کی طرف سے چلائی جانے والی ’زہریلی مہم‘ اور جس طرح صادق خان کو بدنام کرنے کی کوشش کی اور جو ہتھکنڈے استعمال کیے گئے اور جو زبان استعمال کی گئی اس کا انتخابات پر بہت اثر پڑا۔‘

لیبر پارٹی کے رہنما جرمی کوربن انھوں نے کہ بہت سے لوگ اس منفی پراپیگنڈے کے رد عمل میں گھروں سے نکلے اور انھوں نے صادق خان کو ووٹ ڈالے۔

لندن کے میئر کے انتخاب کے لیے رائے دہندگان سے ان کی پہلی اور دوسری ترجیح پوچھی گئی تھی۔ اس بیلٹ پیپر کے علاوہ رائے دہنگان کو دو اور بیلٹ پیپرز بھی دیے گئے تھے جن پر انھیں لندن اسمبلی اور اپنے علاقے سے اس اسمبلی کے لیے ان کے پسندیدہ امیدوار کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔

اسی بارے میں