برطانیہ: علاقائی اور مقامی انتخابات پر ایک نظر

برطانیہ میں جمعرات کو سکاٹ لینڈ، شمالی آئر لینڈ اور ویلز کی علاقائی اسمبلیوں اور انگلینڈ کی مقامی کونسلوں کے لیے ہونے والی پولنگ کے بعد جمعے کو ووٹوں کی گنتی جاری ہے، تاہم عمومی رجحانات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ انتخابات سنہ 2020 کے عام انتخابات سے پہلے برطانیہ میں سب سے بڑا انتخابی معرکہ ہے اور تجزیہ کاروں کے خیال میں ان انتخابات کے نتائج سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عام انتخابات میں کون سی جماعت کہاں کھڑی ہو گی۔

اب تک کے نتائج کے اہم نکات

  • سکاٹ لینڈ میں ایک مرتبہ پھر گذشتہ عام اتخابات کا رجحان دیکھنے میں آیا اور لیبر پارٹی کے گڑھ سمجھے جانے اس والے علاقے میں ایک مرتبہ پھر سکاٹش نیشنل پارٹی نے میدان مار لیا۔
  • سکاٹ لینڈ کی اسمبلی میں پہلی مرتبہ کنزرویٹو پارٹی نے لیبر پارٹی کو تیسرے نمبر پر دھکیل دیا ہے۔
  • ویلز کی اسمبلی میں لیبر پارٹی ایک مرتبہ پھر سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آ رہی ہے، تاہم لگتا اسے سادہ اکثریت حاصل نہیں ہو سکے گی۔
  • انگلینڈ میں مقامی کونسلوں کے انتخابات میں لیبر پارٹی کی کارکردگی ملی جلی رہی ہے اور زیادہ تر مقامی کونسلوں میں زیادہ تبدیلی دیکھنے میں نظر نہیں آئی ہے۔
  • ان انتخابات کو لیبر پارٹی کے حال ہی میں سربراہ بننے والے رہنما جرمی کوربن کی قیادت کے حوالے سے خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ انتخابات ان کا پہلا بڑا امتحان تھے۔
  • ابتدائی نتائج کے مطابق لیبر پارٹی کو ایک بڑی کامیابی لندن کے میئر کی شکل میں مل سکتی ہے جہاں ان کے پاکستانی نژاد امیدوار صادق خان کو برتری حاصل ہے۔
    تصویر کے کاپی رائٹ EPA
    Image caption آج رات ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے: نکولا سٹرجن

سکاٹش اسمبلی کے نتائج

سکاٹش اسمبلی کے انتخات کے غیر حتمی نتائج کے مطابق سکاٹش نیشنل پارٹی کو 63، کنزرویٹو پارٹی کو 31، لیبر پارٹی 24، گرین پارٹی کو 6 اور لبرل ڈیموکریٹس کو 5 نشستیں ملی ہیں۔

اگرچہ ایس این پی کی رہنما نکولا سٹرجن نے اسے اپنی جماعت کی ’تاریخی کامیابی‘ سے تعبیر کیا ہے، تاہم جماعت کو اتنی نشستیں نہیں ملی ہیں کہ وہ اکیلے اکثریتی حکومت بنا پائے۔

سکاٹ لینڈ میں اس بات کا تصور بھی مشکل تھا کہ وہاں کنزرویٹو پارٹی کو لیبر سے زیادہ نشتیں مل سکتی ہیں، تاہم اس مرتبہ لیبر پارٹی 7 نشستوں سے کنزرویٹو سے پیچھے رہ گئی ہے۔

ویلش اسمبلی کے نتائج

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یہ انتخابات جیرمی کوربن کا پہلا بڑا امتحان سمجھے جا رہے ہیں

اب تک کے نتائج کے مطابق ویلز کی اسمبلی کے انتخابات میں لیبر پارٹی کو 29، کنزرویٹو‏‏‏ز کو 9 اور لبرل ڈیموکریٹس کو صرف ایک نشست پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

ان بڑی جماعتوں کے علاوہ ’یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی‘ کو ویلز میں پہلی مرتبہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اس کے چھ امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

انگلینڈ کی مقامی کونسلیں

انگلینڈ کی مقامی کونسلوں کے انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق لیبر پارٹی کو 51 کونسلوں میں، کنزرویٹوز کو 26 اور لبرل ڈیموکریٹس کو 2 کونسلوں میں کامیابی ملی ہے۔

مجموعی طور پر اب تک انگلینڈ کی 124 مقامی کونسلوں میں سے 99 کے نتائج آ چکے ہیں جن میں لیبر پارٹی کے سنہ 2012 میں جیتنے والے 23 کونسلروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربن کے ناقدین کا خیال ہے کہ لیبر پارٹی کی کارکردگی اتنی اچھی نہیں رہی جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ یہ جماعت آئندہ عام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کو شکست دے سکے گی۔

اسی بارے میں