بوسنیا کی قدیم مسجد کا دوبارہ افتتاح

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ مسجد 23 سال قبل یوگوسلاویہ کی خانہ جنگی کے دوران تباہ ہوگئی تھی

بوسنیا میں واقع ایک قدیم مسجد کو دوبارہ کھولنے کی تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔ سولہوویں صدی میں بنائی جانی والی اس مسجد کو نوے کی دہائی میں سرب افواج نے تباہ کر دیا تھا۔

فرہاد پاشا نامی اس مسجد کو عثمانی فنِ تعمیر کے شاہکار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس مسجد کی دوبارہ تعمیر پر 14 سال کا وقت لگا ہے اور اس کی تعمیر پرانے پتھر سے ہی کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مسجد کی افتتائی تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی

بوسنیا میں سرب حکام کا کہنا ہے کہ اس مسجد کی بحالی سے ان کی نسلی رواداری عیاں ہوتی ہے۔

یہ مسجد 23 سال قبل یوگوسلاویہ کی خانہ جنگی کے دوران تباہ ہوگئی تھی۔

Image caption مسجد کی دوبارہ تعمیر کے لیے کچھ رقم ترکی نے فراہم کی تھی

سنیچر کو اس مسجد کے دوبارہ کھولنے کی تقریب میں شرکت کے لیے مختلف علاقوں سے مسلمان آئے تھے اور اس موقعے پر علاقے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

اس مسجد کی دوبارہ تعمیر کے لیے کچھ رقم ترکی نے فراہم کی تھی اور مسجد کا افتتاح بھی ترکی کے وزیرِ اعظم احمد داؤد اوغلو نے کیا ہے۔

ترک وزیرِاعظم کے بقول اس مسجد کا افتتاح بوسنیا میں امن کا پیغام ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس موقعے پر ترک وزیرِاعظم بھی موجود تھے

ان کا کہنا تھا کہ ’بوسنیا میں رہنے والے مسلمان، عیسائی اور یہودی ایک جسم کی مانند ہیں۔ان کو الگ کرنا ایک جسم کے ٹکڑے کرنے کے مترادف ہوگا۔‘

اس موقعے پر بوسنیا کے مفتی اعظم نے کہا کہ اس مسجد کا کھلنا سب کے لیے ایک خوشی کا موقع ہے۔

بوسنیا کے عیسائی اور یہودی مذہبی رہنماؤں نے بھی مسجد کے دوبارہ کھلنے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو مبارک باد دی ہے۔

خیال رہے کی نوے کی دہائی میں ہونے والی یوگو سلاویہ کی خانہ جنگی میں ایک لاکھ سے زائد لوگ ہلاک اور لاکھوں اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں