’نازی جرمنی کی علامتیں اسرائیل میں ملتی ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بنیامین نتن یاہو نے کہا کہ مسٹر گولن کے بیان انتہائي غلط اور میرے لیے ناقابل قبول ہیں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے نائب چیف آف آرمی سٹاف کے ایک بیان پر ان پر سخت تنقید کی ہے۔

نائب چیف آف آرمی سٹاف میجر جنرل یائر گولن نے جمعرات کو ہولوکاسٹ کی سالانہ تقریب سے قبل کہا تھا کہ ’اسرائیلی سماج میں نازی جرمنی میں سنہ 1930 کی دہائی میں ہونے والے وقعات جیسے رجحانات موجود ہیں۔‘

نتن یاہو نے کہا کہ ’یہ بیان توہین آمیز ہے اور اس نے اسرائیل کو نقصان پہنچایا ہے۔‘

جبکہ وزیر دفاع موشے یالون نے کہا ہے کہ انھیں ’جنرل گولن پر مکمل اعتماد ہے۔‘

نائب چیف آف آرمی سٹاف نے بدھ کو کہا تھا: ’ہولوکاسٹ کی یاد کے بارے میں اگر مجھے کوئی چیز خوفزدہ کرتی ہے تو یہ وہ قے آور روداد کا اعتراف ہے جو یورپ میں بطور عام اور جرمنی میں بطور خاص 70، 80 اور 90 سال پہلے ہوا تھا اور اس کی علامتیں ہمیں یہاں آج سنہ 2016 میں ملتی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’بہر حال غیر ملکیوں سے نفرت کرنے ۔۔۔ خوف اور دہشت پیدا کرنے سے زیادہ آسان کوئی چیز نہیں ہے۔‘

لیکن نتن یاہو نے کہا کہ مسٹر گولن کا بیان انتہائي غلط اور ناقابل قبول ہے۔

Image caption یالون نے کہا کہ انھیں گولن پر مکمل اعتماد ہے

انھوں نے کہا: ’نائب چیف آف سٹاف کے الفاظ میں 80 سال قبل کے نازی جرمنی جو تقابل پیش کیا گيا ہے وہ قابل نفرین ہے۔

’یہ اسرائیلی سماج کے ساتھ ناانصافی ہے۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نتن یاہو کے اتحاد کے دائیں بازو کی پارٹیوں نے جنرل گولن کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے اور ان پر مرنے والوں کی بے حرمتی کا الزام لگایا ہے۔

لیکن وزیر دفاع یالون نے کہا ہے کہ ’یہ تنقید فوج کو سیاسی نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’جنرل گولن کے خلاف حملے اور ان کے خلاف حالیہ تنقید ان چیزوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی دانستہ کوشش ہے جو انھوں نے گذشتہ رات کہی۔‘

خیال رہے کہ یہ بیانات ایسے میں آئے ہیں جب اسرائيل اور فلسطین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہے۔

اسی بارے میں