’دولت اسلامیہ کے رہنما ابو وہیب فضائی حملے میں ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابو وہیب، شاکر وہیب کے نام سے بھی جانے جاتے تھے

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ عراق کے صوبے انبار میں امریکی سرکردگی میں کیے جانے والے اتحادی فوج کے ایک فضائی حملے میں نام نہاد دولت اسلامیہ نامی تنظیم کے ایک اہم رہنما ہلاک ہو گئے ہیں۔

پینٹاگون کے ترجمان پیٹر کک نے دعوی کیا ہے کہ ابو وہیب اور اس کے تین ساتھی مئی کی چھ تاریخ کو رتبہ کے علاقے میں کہیں جا رہے تھے جب ان کی گاڑی فضائی حملے کا نشانہ بن گئی۔

پینٹاگون کے ترجمان پیٹر کک کا کہنا ہے شام اور عراق دولت اسلامیہ نامی تنظیم کے لوگوں کے لیے آج کل محفوظ نہیں ہیں۔

ابو وہیب کو ہلاک کرنے کے ماضی میں بھی کئی مرتبہ دعوے کیا جا چکے ہیں۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ابو وہیب جن کو شاکر وہیب کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا وہ صوبے انبار میں دولت اسلامیہ کے امیر تھے۔

اس جہادی گروپ نے سنی اکثریت والے عراق کے اس سے بڑے صوبے پر سنہ 2014 میں قبضہ کر لیا تھا۔

ابو وہیب سنہ 1986 میں پیدا ہوئے اور انھوں نے کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کی۔ انھیں دولت اسلامیہ میں ایک ابھرتی ہوئی شخصیت قرار دیا جاتا تھا۔

ابو وہیب دولت اسلامیہ میں شامل ہونے سے قبل القاعدہ کے رکن تھے اور سنہ 2006 میں انھیں امریکی فوج نے عراق میں گرفتار کر لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد انھیں موت کی سزا سنائی گئی تھی لیکن سنہ 2012 میں وہ جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

اسی سال وہ عراق میں سفر کرنے والے شامی ٹرک ڈرائیوروں کے ایک گروہ کو ہلاک کرنے کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر خبروں میں رہے۔

پینٹاگون کے ترجمان نے مزید کہا کہ ابو وہیب صرف انبار صوبے ہی میں نہیں بلکہ دولت اسلامیہ کی قیادت میں اہم مقام رکھتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ابو وہیب کو ختم کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔

اسی بارے میں