بیلجیئم میں مبینہ ’دہشت گرد سیل‘ کے ارکان پر مقدمہ شروع

تصویر کے کاپی رائٹ

بیلجیئم میں سات ایسے افراد پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ پیرس اور برسلز پر حملے کرنے والے انتہا پسند جنگجوؤں کےگروہ کا حصہ ہیں۔

پولیس اہلکاروں نے اس سیل کو جنوری 2015 میں اس وقت بے نقاب کیا تھا جب انھوں نے مشرقی بیلجیئم کے شہر ورویرز میں ایک گھر پر چھاپہ مارا تھا۔

اگرچہ اس سیل کے حوالے سے 16 مشتبہ افراد پر فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے لیکن ان میں سے نو ابھی بھی مفرور ہیں۔

استغاثہ کو یقین ہے کہ 13 نومبر کو پیرس پر حملے کرنے والے عبدالحمید آباؤود اس گروہ کے سرغنہ تھے۔

وہ پیرس پر حملوں کے چند روز بعد فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ یاد رہے کہ پیرس پر بندوقوں اور بموں سے کیے گئے حملوں میں 130 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پیر کو عدالت میں پیش ہونے والوں میں 26 سالہ مروانے ایل بالی بھی ہیں جو ورویرز میں 15 جنوری کو پولیس چھاپے کے دوران گرفتار ہوئے تھے۔

ایل بالی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ’ان کے موکل بےگناہ ہیں اور وہ غلط وقت پر غلط مقام پر تھے۔‘

ورویرز میں چھاپے کے وقت سرکاری وکیلوں کا کہنا تھا کہ یہ گروہ شام سے واپس آنے کے بعد بیلجیئم میں حملے کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

برسلز میں پیر کو شروع ہونے والے مقدمے کے دوران عدالت کے باہر سخت سکیورٹی تھی۔ دو مشتبہ افراد کے وکلاء نے شکایت کی کہ بیلجیئم کی جیلوں میں حالیہ ہڑتال کے باعث وہ اپنے موکلوں سے بات نہیں کر سکے ہیں۔

اسی بارے میں