فحش حرکات کا الزام، فرانس کے ڈپٹی سپیکر مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈینس پر لگنے والے کچھ الزامات 15 سال پرانے ہیں

فرانس کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر جن پر خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کو جنسی طور پر حراساں کرنے کا الزام تھا اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

فرانسیسی میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواتین اراکین پارلیمنٹ نے بتایا کہ ڈپٹی سپیکر ڈینس بوپین نے ایک خاتون رکن کو نا مناسب طریقے سے ہاتھ لگایا تھا جبکہ کئی دیگر خواتین اراکین کو انھوں نے فحاش پیغامات بھیجے تھے۔

ڈینس بوپین کے وکیل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ان کے موکل اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ میرے موکل نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ ان خواتین کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کریں۔

الزامات کے سامنے آنے کے بعد پارلیمنٹ کے صدر نے ڈینس بوپین سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ خواتین نے پیر کو ڈپٹی سپیکر پر انھیں جنسی طور پر حراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔

ڈینس پر الزام لگانے والی ایک رکن کا کہنا ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے ان کے ساتھ دست درازی کی تھی اور زبردستی انھیں بوسہ دینے کی کوشش کی تھی۔

دیگر خواتین کے بقول انھیں ڈینس نے فحاش پیغامات بھیجے تھے اور ان کے سامنے فحش حرکات کی تھیں۔

خیال رہے کہ ڈینس پر لگنے والے کچھ الزامات 15 سال پرانے ہیں۔

ڈپٹی سپیکر پر الزامات لگانے والی تمام خواتین کا تعلق ان کی سابقہ جماعت گرین پارٹی سے ہے۔

اسی بارے میں