پناہ گزین کیمپ میں خوشی کے آنسو

Image caption دلھن کو شادی کا لباس ایک قریبی قصے کے میئر نے تحفتاً دیا

یہ ہفتہ مقدونیہ کی سرحد کے قریب خیمہ زن شمالی یونان کے پناہ گزینوں پر خاصا کڑا گزرا ہے۔

پہلے تو سرحد پار کرنے کی کوشش کرنے والوں پر آنسو گیس پھینکی گئی، پھر طوفانی موسم نے ان کے کمزور خیموں کو الٹ پلٹ کر کے رکھ دیا۔ یہ خیمے انھیں خیراتی اداروں کی طرف سے دیے گئے تھے لیکن ان کی اکثریت بارشوں کی شدت نہیں سہار سکی۔

ان ناگفتہ بہ حالات کے باوجود ایڈمینی کے عارضی کیمپ گذشتہ چند دنوں میں کئی منگنیاں ہوئیں اور ایک جوڑا شادی کے بندھن میں بندھا ہے، جن کی وجہ سے وہاں کسی حد تک رونق پیدا ہوئی ہے۔

ایڈمینی میں رہنے والے بہت سے پناہ گزین سرحدیں بند ہونے کی وجہ سے دو ماہ سے یہاں پڑے ہوئے ہیں۔

انھیں امید تھی کہ سرحدیں کھل جائیں گی لیکن اب تک ایسا نہیں ہو سکا اور وہ موجودہ حالات ہی پر قناعت کرنے اور زندگی کی گاڑی جیسے تیسے آگے بڑھانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

یونان میں تقریباً 50 ہزار پناہ گزین گھرے ہوئے ہیں جن میں سے بہت سے انڈومینی جیسے عارضی کیمپوں میں مقیم ہیں۔ انھیں خدشہ ہے کہ دنیا انھیں بھلا دے گی۔

دمشق سے آنے والی ایک خاتون کہتی ہیں: ’زندگی یہاں بھی الم ناک ہے۔ شام میں اگر آپ مرتے تو ایک بار مر جاتے، یہاں ہر روز مرنا پڑتا ہے۔‘

تاہم یہاں کی زندگی بقا کی جنگ اور عام زندگی گزارنے کی خواہش سے بھی پُر ہے۔

ساحر اور رقیہ کی منگنی کو چار ماہ ہو چلے ہیں۔ وہ جرمنی پہنچ کر شادی کرنا چاہتے تھے، لیکن اب انھیں احساس ہوا ہے کہ اس میں سالہاسال بیت جائیں گے، اس لیے انھوں نے فیصلہ کیا کہ مزید انتظار کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

Image caption حالیہ بارشوں سے انڈومینی کیمپ جوہڑ بن گیا ہے

ساحر کہتے ہیں: ’سرحدیں جلدی کھلنے کا امکان نہیں ہے، اس لیے ہم نے سوچا کہ کیوں نہ ابھی شادی کر لیں۔ مجھے شادی کی خوشی ہے لیکن ساتھ ہی دکھ بھی ہے۔ میری واحد خواہش یہ ہے کہ سارا شام پرامن ہو جائے تاکہ ہم وہاں لوٹ سکیں۔‘

شادی کی خبر قریبی قصبے پائیونیا کے میئر تک بھی پہنچ گئی۔ اتفاق سے وہ شادی کے لباس تیار کرنے کی دکان بھی چلاتے ہیں۔ انھوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے شادی کا جوڑا اس شرط پر عطیہ کر دیا کہ اسے بعد میں دوسری دلھنیں بھی استعمال کریں۔

ڈپٹی میئر آیونس اورامپولس نے کہا: ’لوگ مشکل حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے پاس نہ پیسہ ہے، نہ خوراک، وہ اپنی جگہ سے اکھڑ گئے ہیں، اور زخم خوردہ ہیں۔

’یہ لباس عطیہ کرنا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ میری امید ہے کہ وہ ایک ساتھ پیار محبت سے رہتے ہوئے زندگی گزاریں۔‘

کیمپ میں پہلی بار غم کے نہیں بلکہ خوشی کے آنسو بہائے گئے۔ لوگ ناچنے لگے، موبائل فون کے ننھے سپیکروں سے موسیقی گونجی، اور کیمپ میں آگ جلائی گئی۔

بعض رضاکار لیمپ لے کر آ گئے اور عارضی حجلۂ عروسی پر گلاب کی پتیاں نچھاور کی گئیں جو ایک اونچے خیمے پر مشتمل تھا جس کے نیچے تختے بچھائے گئے تھے تاکہ بارش کا پانی وہاں کھڑا نہ ہو سکے۔ اس کے اندر ایک چھوٹی سی میز پر خوشبو کی بوتلیں اور سگریٹ رکھے گئے۔

ساحر نے کہا: ’میرے والدین اب بھی شام میں ہیں، جس کی وجہ سے میں بہت اداس ہوں۔ لیکن اب انڈومینی کے لوگ میرے خاندان کا حصہ بن گئے ہیں۔‘

کیمپ کے دوسرے باسیوں نے جوڑے کو خوشحال مستقبل اور کامیاب شادی کی دعائیں تو ضرور دیں لیکن وہ کوئی تحفے تحائف نہیں دے سکے۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کر کے شام سے فرار ہوئے تھے۔

یورپی یونین پناہ گزینوں کے بحران کا حل تلاش کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ کیمپوں میں گھرے ہوئے لوگوں کے لیے دو ہی باتیں یقینی ہیں۔ ایک تو یہ کہ بند سرحدیں جلد نہیں کھلنے والی۔

دوسری یہ کہ ان کے پاس کچھ زیادہ نہیں ہے لیکن کم از کم ایک دوسرے کا سہارا تو ہے۔ اور زندگی کی گاڑی تو کبھی رکتی نہیں، آگے بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔

اسی بارے میں