روسیف کے خلاف مواخذے کی تحریک کا عمل کھٹائی میں

جیلما روسیف تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جیلما روسیف پر سرکاری رقوم کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے کا الزام ہے، جس سے وہ انکار کرتی ہیں

برازیل کی صدر جیلما روسیف کے خلاف مواخذے کی تحریک کا عمل کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔

برازیل کے ایوانِ زیریں کے قائم مقام سپیکر والدیر مارانہاؤ نے 17 اپریل کو ایوان میں ہونے والے ووٹ کو منسوخ کر دیا ہے جس کے ذریعے اس معاملے کو سینیٹ میں لے جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ملک کے سینیٹ نے بدھ کو مواخذے کی کارروائی شروع کرنی تھی۔ اب یہ واضح نہیں ہے کہ اس پر ووٹ ہو گا یا نہیں۔ اگر یہ کارروائی شروع ہو جاتی ہے تو ملک کے آئین کے تحت روسیف چھ ماہ کے لیے صدر کے عہدے سے معطل ہو جائیں گی۔

برازیل کے ایک اخبار کی طرف سے کیے گئے ایک جائزے کے مطابق 81 سینیٹروں کی اکثریت صدر کے مواخذے کی حامی ہے۔

تاہم مارانہاؤ کہتے ہیں کہ ایوانِ زیریں میں مواخذے کے حق میں ووٹنگ کے دوران کچھ بے قاعدگیاں دیکھنے میں آئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایوانِ زیریں کے نمائندوں کو ووٹ ڈالنے سے پہلے اپنی پوزیشن کا اعلان اس طرح کھلے عام نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اور پارٹی کے رہنماؤں کا بھی اپنے اراکین کو بتانا غلط تھا کہ کس طرح ووٹ ڈالنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایوانِ زیریں میں نیا ووٹ ہونا چاہیے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ سینیٹ کارروائی کو ایوانِ زیریں میں دوبارہ واپس بھیجنے پر رضامند ہو گا۔

اس بات کا بھی پتہ نہیں کہ مارانہاؤ کے فیصلے کو مسترد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

بحران میں گھری برازیلی صدر جیلما روسیف کہتی ہیں کہ وہ بےقصور ہیں اور اپنے خلاف مواخذے کی تحریک کا سامنا کریں گی۔

انھوں نے کہا کہ وہ اپنی جدوجہد ترک نہیں کریں گی اور اگر ان کے خلاف مواخذے کی تحریک منظور ہو بھی گئی تب بھی وہ حکومت میں واپس آئیں گی۔

جیلما روسیف پر سرکاری رقوم کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے کا الزام ہے، جس سے وہ انکار کرتی ہیں۔

اسی بارے میں