اوباما ہیروشیما کا دورہ کریں گے، ’معافی نہیں مانگیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

براک اوباما اس ماہ پہلے امریکی صدر ہوں گے جو اپنے دورِ صدارت کے دوران جاپان کے شہر ہیروشیما کا دورہ کریں گے جس پر امریکہ نے 1945 میں ایٹم بم گرایا تھا۔

صدر اوباما 21 سے 28 مئی تک ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، اور اس دورے میں وہ ویتنام بھی جائیں گے۔

امریکہ نے ہیروشیما پر چھ اگست 1945 کو ایٹم بم گرایا تھا جس میں ایک لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہیروشیما کے علاوہ امریکہ نے ناگاساکی پر بھی ایٹم بم گرایا تھا جس کے نتیجے میں دوسری جنگ عظیم کا اختتام ہوا تھا۔

براک اوباما سے قبل سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے بھی ہیروشیما کا دورہ کیا تھا لیکن ان کا یہ دورہ اس وقت پیش آیا جب ان کی صدارتی مدت ختم ہو چکی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hiroshima Peace Memorial Museum AP

صدر اوباما کے پریس سیکریٹری کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے: ’صدر ہیروشیما کا تاریخی دورہ کریں گے۔ ان کے ہمراہ جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے بھی ہوں گے۔ ان کا یہ دورہ ایٹمی ہتھیاروں سے پاک عالمی امن اور استحکام کا عزم دہرانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔‘

تاہم وائٹ ہاؤس نے ایٹم بم گرانے پر معافی مانگنے کے تاثر کو رد کیا ہے۔

صدر اوباما کے مشیر برائے کمیونیکیشن بین روڈز نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ ہمیشہ سویلین لیڈرشپ اور ان فوجیوں پر فخر کرتا ہے جنھوں نے دوسری جنگ عظیم میں حصہ لیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اوباما ’دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر ایٹم بم گرانے کے فیصلے کے بارے میں نہیں بلکہ دونوں ممالک کے مستقبل پر توجہ مرکوز کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر کے دورے میں ان کو موقع ملے گا کہ وہ ان تمام معصوم لوگوں کو یاد کریں جنھوں نے اس جنگ میں اپنی جان کھوئی۔

صدر براک اوباما جاپان میں جی سیون اجلاس میں حصہ لیں گے اور جاپانی وزیر اعظم سے ملاقات بھی کریں گے۔

جاپان کے دورے سے قبل صدر اوباما ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور امریکہ اور ویتنام کے تعلقات کے حوالے سے خطاب بھی کریں گے۔

اسی بارے میں