ٹرمپ کے مسلمانوں پر پابندی کے مؤقف میں نرمی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’یہ محض ایک تجویز تھی تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ کیا ہو رہا ہے‘

امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے اپنے مؤقف میں بظاہر نرمی کا اظہار کیا ہے۔

لندن کے نومنتخب میئر صادق خان کے بیان کے ردعمل میں ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ یہ پابندی ’صرف ایک تجویز‘ تھی۔

صادق خان نے اس حوالے سے خدشے کا اظہار کیا تھا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر بن گئے تو وہ اپنے مسلمان عقیدے کی وجہ سے امریکہ کا سفر نہیں کر سکیں گے۔

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر ان کی مجوزہ پابندی سے صادق خان مستثنیٰ ہوں گے۔

تاہم صادق خان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تجویز کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ اسلام کے بارے میں کم علمی پر مبنی خیالات ’ہم دونوں کے ممالک کو کم محفوظ بنا سکتے ہیں۔‘

گذشتہ سال پیرس میں حملوں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ مسلمانوں کا امریکہ میں داخلہ بند کر دیا جائے۔

ان کی عارضی پابندی کی وسیع پیمانے پر تنقید ہوئي تھی لیکن ٹرمپ اپنی تجویز پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ کی سکیورٹی کے لیے ضروری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر ان کی مجوزہ پابندی سے صادق خان مستثنیٰ ہوں گے

بدھ کو ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘یہ ایک عارضی پابندی ہے۔ اس کا مطالبہ ابھی نہیں کیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ محض ایک تجویز تھی تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ کیا ہو رہا ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی کئی مواقعوں پر اپنی رائے تبدیل کرچکے ہیں۔

اس سے قبل وہ ٹیکس کے منصوبے، ابارشن اور خواجہ سراؤں کے پبلک ٹوائیلٹ کے استعمال کے حوالے سے متضاد بیان دے لا چکے ہیں۔

اسی وجہ سے رپبلکن پارٹی کے رہنماؤں میں اس کے سیاسی امیدوار بننے کے حوالے خدشات پائے جاتے ہیں۔

ہاؤس سپیکر پال ریان سمیت اہم رپبلکن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ عام انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اختلافات دور کرنے کے لیے جمعرات کو مچ کونیل، پال ریان اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

اسی بارے میں