’مواخذے کے حق میں ووٹ بغاوت اور ڈھونگ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

برازیل کی صدر جیلما روسیف نے ایوان بالا کی جانب سے ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ کو ’بغاوت‘ اور ’ڈھونگ‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے یہ بات ٹی وی پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

* برازیل: صدر روسیف کی عدالت سے مواخذہ روکنے کی اپیل

انھوں نے خطاب میں کہا کہ ان کی حکومت کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔

اس سے قبل برازیل کے ایوان بالا نے صدر جیلما روسیف کے مواخذے اور ان کو معطل کرنے کے حق میں ووٹ دیا جس کے بعد انھیں مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔

صدر جیلما روسیف نے بدھ کو سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ وہ ان کے خلاف مواخذے کی تحریک کو روک دے لیکن اس درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

صدر روسیف پر بڑھتے ہوئے خسارے کو چھپانے کے لیے سرکاری اکاؤنٹس میں ردو بدل کرنے کے الزامات ہیں جن سے وہ انکار کرتی ہیں۔

سینیٹ کے 20 گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والے اجلاس میں صدر جیلما کو معطل کرنے کے حق میں 55 ووٹ جبکہ مخالفت میں 22 ووٹ پڑے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ag. Senado
Image caption سینیٹ میں اکثریت نے صدر جیلما کی خلاف مقدمے چلانے کے حق میں ووٹ دیا

اب ملک کے نائب صدر مائیکل ٹیمر نے صدر کا عہدہ سنبھال لیا ہے جبکہ جیلما کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

جیلما کے خلاف کارروائی180 روز تک جاری رہ سکتا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ ریو میں پانچ اگست سے شروع ہونے والے اولمپکس مقابلوں کے دوران بھی وہ معطل ہی ہوں گی۔

سینیٹ کے پوری رات جاری رہنے والے اجلاس کے بعد اٹارنی جنرل ایڈوارڈو کاردازو نے کہا ہے کہ مواخذے کی درخواست کی قانونی حیثیت نہیں ہے اور حزب اختلاف جمہوری طریقے سے منتخب صدر کو ہٹانا چاہتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سینیٹرز ایک’ بے قصور عورت‘ کی مذمت کر رہے ہیں اور مداخذہ ’تاریخی ناانصافی‘ ہے۔

حال ہی میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر روسیف نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ مواخذے کے مقدمے کی صورت میں انھیں معطل کر دیا جائے گا لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنا نام صاف کروانے کے لیے لڑیں گی اور یہ بھی کہ ان کی پوری کوشش ہو گی کہ وہ اپنی صدارت کے آخری دو سال مکمل کر سکیں۔

اسی بارے میں