’ہائی ہیلز نہیں پہن سکتیں تو نوکری چھوڑ دو‘

تصویر کے کاپی رائٹ Nicola Thorp
Image caption نیکولا تھورپ کا کہنا ہے کہ انھیں ہائی ہیلز پہن کر پورا دن کام کرنے میں مشکلات ہو سکتی تھی

لندن میں ایک خاتون ملازمہ کو ہائی ہیلز والے جوتے پہن کر کام کرنے سے انکار کرنے پر نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔

ہیکنی سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ عارضی کارکن نیکولا تھورپ جب فنانس کمپنی پی ڈبلیو سی آئیں تو ان سے کہا گیا کہ انھیں ’دو سے چار انچ اونچی ایڑی والے جوتے‘ پہننا ہوں گے۔

جب انھوں نے اس سے انکار کیا اور سوال کیا کہ مرد رفقائے کار سے بھی ایسا ہی کرنے کو کیوں نہیں کہا جاتا، تو انھیں بغیر تنخواہ دیے گھر بھیج دیا گیا۔

آؤٹ سورسنگ فرم پورٹیکو کا کہنا ہے کہ ’مس تھورپ نے لباس کے بارے میں ضابطہ کار پر دستخط کیے ہوں گے لیکن اب اس کا جائزہ لینا ہو گا۔‘

نیکولا تھورپ کا کہنا ہے کہ انھیں ہائی ہیلز پہن کر پورا دن کام کرنے میں مشکلات ہوسکتی تھی اس لیے انھوں نے چپٹے جوتے پہننے کا پوچھا تھا جو وہ ایک دفتر میں پہن کر جاتی تھیں۔

لیکن اس کے باوجود ان سے گذشتہ دسمبر میں ان کے پہلے ہی دن اونچی ایڑی والے جوتے خریدنے کو کہا گیا۔

نیکولا تھورپ نے بی بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کہا کہ اگر آپ مجھے کوئی ایک وجہ بتا دیں کہ آج فلیٹ جوتے پہننے کی وجہ سے میرے کام میں رکاوٹ پیدا ہوگی تو ٹھیک ہے، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔‘

’مجھ سے توقع کی جا رہی تھی کہ میں نو گھنٹوں کی شفٹ اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر کروں، کلائنٹس کو میٹنگ روم تک لے کر جاؤں۔ میں نے کہا کہ میں ہیلز کے ساتھ یہ سب نہیں کر پاؤں گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ GOOGLE

انھوں نے اپنے دوستوں سے یہ سب بیان کیا اور جب انھوں نے فیس بک پر یہ سب لکھا تو انھیں معلوم ہوا کہ دیگر خواتین کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔

’میں خوف زدہ تھی کہ اس بارے میں بولنے کا منفی اثر بھی ہو سکتا ہے، لیکن میں نے سوچا کہ مجھے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ بڑا مسئلہ ہے۔‘

اس کے بعد انھوں نے ایک پٹیشن تیار کی جس میں انھوں نے قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تاکہ خواتین کو ہائی ہیلز پہن کر کام کرنے پر مجبور نہ کیا جا سکے۔ اس پٹیشن پر دس ہزار سے زائد دستخط ہو چکے ہیں جس کے بعد اب حکومت کو اس پر ردعمل ظاہر کرنا ہو گا۔

قانون کے مطابق کمپنی مالکان ’مناسب‘ مطلوبہ ڈریس کوڈ پر پورا نہ اترنے والے عملے کو صحیح کپڑے اور جوتے خریدنے کا وقت دینے کے بعد ملازمت سے نکال سکتے ہیں۔

’وہ مرد اور خواتین کے لیے مختلف ڈریس کوڈ رکھ سکتے ہیں۔‘

دوسری جانب پی ڈبلیو سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کی پالیسی کے حوالے سے پورٹیکو کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔

اسی بارے میں