ملبے کے ٹکڑے ’تقریباً یقینی طور‘ پر ملائیشیا کے لاپتہ جہاز کے

تصویر کے کاپی رائٹ

ملائیشیا اور آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ موریشیئس اور جنوبی افریقہ کے ساحلوں سے ملنے والے طیارے کے ملبے کے دو ٹکڑے تقریباً یقینی طور پر ملائیشیا ایئر لائن کی پرواز ایم ایچ 370 کے ہیں۔

مارچ 2014 میں لاپتہ ہونے والے جہاز کے بارے میں جانے کی کوششوں کے سلسلے میں یہ تازہ انکشاف ہے۔

لاپتہ ہونے والا طیارہ پر 239 افراد سوار تھے اور وہ کوالالمپور سے بیجنگ جا رہا تھا۔ اس طیارے کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ راستہ تبدیل کرنے کے دوران سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔

اس وقت تین کشتیاں جنوبی بحیرہ ہند کے تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار مربع کلو میٹر علاقے میں طیارے کو تلاش کر رہے ہیں تاہم ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

پانچ ملبے کے ٹکڑوں کے بارے میں تصدیق کی جا چکی ہے کہ وہ یقیناً یا ممکنہ طور پر اسی طیارے کے ہیں۔ ملنے والا ہر ٹکڑا تلاش کیے جانے والے علاقے سے ہزاروں میل دور سے ملا ہے۔ تاہم اس علاقے کی صورت حال سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طیارے کے ٹکڑے بہہ کر دور دراز کے پانیوں میں پہنچ گئے ہوں گے۔

تمام ٹکڑوں کا جائزہ آسٹریلیا میں آسٹریلوی ٹرانسپورٹ سیفٹی بیورو (اے ٹی ایس بی) اور ماہرین نے لیا ہے۔

ان ٹکڑوں پر انھوں نے بناوٹ اور لکھائی کے ساتھ ساتھ ان پر چپکے سمندری جانور بارنیکلز اور پودوں کی مدد سے اندازہ لگایا کہ یہ لاپتہ بوئنگ 777 کے ہی ٹکڑے ہیں اور یہ کس علاقے سے بہہ کر آئے ہیں۔

جمعرات کو ملائیشیا کے ٹرانسپورٹ کے وزیر لیو ٹیانگ لائی کا کہنا تھا کہ ’ٹیم نے اس کی تصدیق کر لی ہے کہ ملبے کے دونوں ٹکڑے جو جنوبی افریقہ اور راڈریگیز آئی لینڈ سے ملے ہیں، یقیناً ایم ایچ 370 کے ہیں۔‘

اس قبل کوئی بھی 777 طیارہ جنوبی نصف کرۂ زمین میں تباہ نہیں ہوا، اور نہ ہی کسی طیارے کے لاپتہ ٹکڑوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

اسی بارے میں