’مجھ پر بھروسہ رکھیں‘، برازیل کے عبوری صدر کا خطاب

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مائیکل ٹیمر کا کہنا تھا: ’برازیل کو متحد کرنے اور امن کی بحالی کی اشد ضرورت ہے‘

برازیل کے نئے عبوری صدر مائیکل ٹیمر نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مجھ پر بھروسہ رکھیں۔۔۔ اپنے لوگوں کی اقدار پر اور معاشی طور پر بہتری کی قابلیت پر بھروسہ رکھیں۔‘

اس سے قبل برازیل کے ایوان بالا نے صدر جیلما روسیف کے مواخذے اور ان کو معطل کرنے کے حق میں ووٹ دیا جس کے بعد انھیں مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔

اپنے خطاب میں عبوری صدر نے کابینہ کا بھی اعلان کیا جس میں سینٹرل بینک کے سابق سربراہ ہنرک میریلس وزیر خزانہ ہیں۔

جیلما روسیف نے ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ کو ’بغاوت‘ اور ’ڈھونگ‘ قرار دیا ہے۔

نائب صدر مائیکل ٹیمر کی جانب سے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اب جیلما روسیف کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

جیلما کے خلاف کارروائی180 روز تک جاری رہ سکتی ہے اور اس کا مطلب ہے کہ ریو میں پانچ اگست سے شروع ہونے والے اولمپکس مقابلوں کے دوران بھی وہ معطل ہی ہوں گی۔

مائیکل ٹیمر کا کہنا تھا: ’برازیل کو متحد کرنے اور امن کی بحالی کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں ایسی حکومت بنانا ہوگی جو اس قوم کو بچا سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ اہم ہے کہ ہم بیرون ملک ملک کی ساکھ کو بحال کریں تاکہ نئی سرمایہ اور معاشی ترقی حاصل کرسکیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جیلما روسیف نے ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ کو ’بغاوت‘ اور ’ڈھونگ‘ قرار دیا ہے

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ برازیل ایک غریب ملک ہے اور وہ معاشرتی منصوبوں کی حفاظت کریں اور انھیں بڑھائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’بحران کے بارے میں بات کرنا بند کریں۔ آئیے کام کریں۔‘

مائیکل ٹیمر نے 21 وزرا پر مشتمل کابینہ نامزد کی ہے۔ جس میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے۔

جیلما روسیف نے اس سے قبل یہ اشارہ دیا تھا کہ مردوں سے حاوی کانگریس نے ان کے خلاف مواخذے کے عمل نے کلیدی کردار ادا کیا یے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے مائیکل ٹیمر کی مقبولیت بھی جیلما روسیف کی طرح کچھ اچھی نہیں ہے اور انھیں کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ برازیل گذشتہ دس سال کے دوران بدترین بحرانی دور سے گزر رہا ہے جہاں سنہ 2015 میں بیروزگاری کی شرح نو فیصد تھی اور مہنگائی گذشتہ 121 سال میں بلندترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

اسی بارے میں