امریکہ نے رومانیہ میں میزائل شیلڈ فعال کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکہ نے رومانیہ میں موجود میزائل ڈیفنس سٹیشن کو فعال کر دیا ہے جو کہ متنازع یورپی شیلڈ کا بڑا حصہ ہے۔

سینیئر امریکی اور نیٹو حکام نے رومانیہ کے جنوب میں ہونے والی ایک تقریب میں حصہ لیا۔

٭ ’کرائمیا کے روس سے الحاق پر ریفرینڈم غیرقانونی ہوگا‘

٭ یوکرین اور روس: مغربی ممالک کیا کرسکتے ہیں؟

امریکہ کا کہنا ہے کہ ایجس سسٹم ایک ڈھال ہے جس کا مقصد نیٹو کو کم اور درمیانے فاصلے پر مار کرنے والے میزائلوں سے محفوظ بنانا ہے اور خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ سے آنے والے میزائلوں سے۔

تاہم روس اس اقدام کو خطرے کے طور پر دیکھتا ہے مگر نیٹو روسی خدشات کو رد کرتا ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 2014 میں ماسکو کی جانب سے یوکرینی جزیرہ نما کرائمیا کے الحاق کے بعد سے مغرب اور روس کے تعلقات خراب ہیں۔

روس پر یہ بھی الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ یوکرین کے مشرق میں علیحدگی پسندوں کو مسلح کرنے کے علاوہ وہاں اپنی افواج بھیج رہا ہے جس کی کریملن تردید کرتا ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل اور فوجی اتحاد کے دیگر سینئیر اہلکار رومانیہ کے پرانے ایئر بیس پر ہونے والی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے۔

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ سنہ 2013 کے بعد سے ریڈار اور ایس ایم ٹو میزائل انٹرسیپٹرز پر 80 کروڑ ڈالر خرچ کر رہا ہے۔

رومانیہ میں موجود میزائل سٹیشن میں اب دو ایس ایم ٹو میزائل انٹرسیپٹرز ہوں گے۔

نیٹو اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ رومانیہ میں میزائل سٹیشن کو متحرک کرنے کا مقصد ’بدمعاش‘ ریاست کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں کو انٹرسیپٹ کرنا ہے۔

امریکہ کئی سالوں سے ایجس سسٹم کو بحری جہازوں پر بھی ٹیسٹ کر رہا ہے۔

حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ شیلڈ روس کے خلاف نہیں ہے۔

روس نے بار بار اپنی تشویش کو دوہرایا ہے کہ امریکہ اور نیٹو کا دفاع اس کے خلاف ہے۔

اسی بارے میں