بین الاقوامی بینک پر ایک اور سائبر حملہ

بنگلہ دیش کے مرکزی بینک سےایک سائبر حملے میں آٹھ کروڑ ڈالر چرانے کی واردات کی طرز پر ایک اور بینک کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر سرمایہ منتقل کرنے کے پیغامات کی نگرانی کرنے والے ادارے ’سوئفٹ‘ نے اس دوسرے حملے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

سوئفٹ نے کہا ہے کہ اس مرتبہ ایک کمرشل بینک کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن انھوں نے بینک کا نام ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی یہ تفصیل فراہم کی ہے کہ آیا اس حملے میں کوئی رقم چرائی گئی ہے کہ نہیں۔

اس حملے میں وہی طریقہ اور وہی حربے استعمال کیے گئے جو اس سال فروری میں بنگلہ دیش کے مرکزی بینک سے رقم چرانے میں استعمال کیے گئے تھے۔

دنیا بھر میں 11 ہزار سے زیادہ مالیاتی ادارے اور بینک بھاری رقوم کی بین الاقوامی سطح پر منتقلی میں سوئفٹ پر انحصار کرتے ہیں۔

سوئفٹ کے مطابق سائبر حملے کے پچھے لوگوں کو رقوم کی منتقلی کے نظام سے پوری طرح آگاہی حاصل ہے اور اس امکان کو بھی سوئفٹ نے رد نہیں کیا کہ بینک کے اندر کچھ ’بدنیت عناصر‘ بھی اس میں ملوث ہیں۔

٭ مشین سے انسان کےچوتھے مقابلے میں بلاآخر انسان فاتح

دونوں حملوں میں ’چوروں‘ نے سوئفٹ کے نظام میں جھوٹے پیغامات کے ذریعے رقم اپنے زیرِ قبضہ بینک کھاتوں میں منتقل کرنے کی کوشش کی۔

فروری میں ہونے والے سائبر حملے کی تفتیش کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس گروہ نے بنگلہ دیش کے مرکزی بینک کے نیویارک کے سینٹرل ریزور بینک سے ایک ارب ڈالر کی رقم کسی دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی کوشش کی تھی۔

رقم کی منتقلی کے بارے میں ایک پیغام یا ’ٹرانسفر‘ آرڈر میں ہجے کی غلطی پر نیویارک کے فیڈرل ریزرو کا عملہ خبردار ہو گیا جس کی وجہ سے باقی پیسہ لٹنے یا منتقل ہونے سے بچ گیا۔

سوئفٹ کا کہنا ہے کہ دوسرے حملے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بنگلہ دیش کے مرکزی بینک سے اس سائبر چوری کی واردات کوئی اکیلا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک باقاعدہ وسیع پیمانے پر چلائی جانے والی مہم کا حصہ ہے جس میں بینکوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سوئفٹ کا کہنا ہے کہ سائبر چوروں کی کوششوں کے باوجود اس کو مرکزی نیٹ ورک بالکل محفوظ ہے۔

سوئفٹ نے اس سال اپریل میں اپنے کمپیوٹر نظام کے سافٹ ویئر میں تبدیلیاں کی ہیں، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ اس سے کھاتہ داروں کو زیادہ تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملی ہے۔

بنگلہ دیش کے مرکزی بینک سے چرانے کی واردات کی تفتیش سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سائبر چوروں نے ناقص سکیورٹی نظام کی وجہ سے مرکزی بینک کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کی۔

بینک کے اکاؤنٹ میں کوئی ’فائر وال‘ نہیں تھی جو غیر متعلقہ افراد کو اس تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکتی۔

بنگہ دیش کے بینک نے استعمال شدہ ’راؤٹر‘ لگائے تھے جن کو دس ڈالر میں خریدا گیا تھا اور انھیں عالمی مالیاتی نیٹ ورک سے رابطے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

.

اسی بارے میں