اس شہنشاہ عالم کےسامنے سب بے بس

تصویر کے کاپی رائٹ DPA
Image caption زوکر برگ ایک نئی کوششوں میں مشغول ہیں

ایک تھا بادشاہ جس کی بہت بڑی فوج تھی، وہ بہت بڑے محل میں رہتا تھا، سونے چاندی سے سجے ہوئے لباس پہنتا تھا، اس کی کئی رانياں تھیں۔ جو اس کی نہیں سنتا تھا تو اسے ڈرا دھمكا كر اس کو قابو میں کر لیا جاتا تھا یا پھر اس کا سر قلم کر دیا جاتا تھا۔

یہ زمانہ قدیم کے کسی بادشاہ ٹائپ کہانی لگ رہی ہے ناں؟ چلیے آپ کو 21 ویں صدی کے ایک بادشاہ کا قصہ سناتا ہوں۔

ایک بہت بڑے بادشاہ ہیں، وہ محل میں تو نہیں لیکن ایک بڑے سے گھر میں رہتے ہیں۔ عام طور پر ٹی شرٹ اور جینز میں ہی نظر آتے ہیں۔ کسی کو دھمکی دینا یا کسی کا سر قلم کرنا تو دور کی بات، آج تک کسی نے انھیں بلند آواز میں بات کرتے ہوئے بھی نہیں سنا ہے۔ لیکن ان کی حکومت دنیا میں پھیلتی جا رہی ہے۔

کہتے ہیں فی الحال وہ ایک ارب 60 کروڑ لوگوں پر حکومت کرتے ہیں یعنی چین اور بھارت سے بھی زیادہ بڑی آبادی پر ان کا قبضہ ہے۔

اور ان کے راج میں سبھی خوش نظر آتے ہیں۔ سب ایک دوسرے کو لائک کرتے ہیں، ایک دوسرے پر تبصرہ کرتے ہیں، یہاں تک کہ اپنی ذاتی زندگی بھی ایک دوسرے کے لیے کھول دیتے ہیں۔

مری میں کون باہوں میں باہیں ڈالے کھڑا ہے اور کون ہوائی میں بکنی کے درشن کر رہا ہے، کس نے مغلائی کھایا اور کس نے چائینیز، کس کی شادی کے 20 برس پورے ہو گئے اور کون نئے ہیئر کٹ کی خوشی منا رہا ہے۔ اب یہ ساری باتیں سبھی کو پتہ ہوتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption زوکربرگ نے اپنی بچی کی پیدائش کی خبر شیئر کی تھی

ان کے راج میں لوگ ایک دوسرے کو گالیاں بھی دیتے ہیں، بالکل ماں بہن والی، لیکن کس نےگالی دی یہ پتہ نہیں چل پاتا، گالی ملی کس کو یہ بھی نہیں پتہ چل پاتا۔ سب خوش رہتے ہیں۔ مائیں اور بہنیں بھی یوم مدر اور رکشا بندھن کی مبارکباد سے تازہ دم رہتی ہیں۔

بادشاہ نے عوام کا اتنا خیال رکھا ہے کہ اسے کیا خریدنا ہے، کہاں سے خریدنا ہے، کون سی موسیقی سننی ہے، کون سا کھیل دیکھنا ہے سب وہی فیصلہ کر دیتا ہے۔ دماغ پر زور ڈالنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔

مودی، اوباما، پوتن، ٹرمپ، ہلیری کوئی بھی اس بادشاہ کی برابری نہیں کر سکتا۔

سرحدیں معنی نہیں ركھتیں، پاسپورٹ اور ویزا کی ضرورت نہیں پڑتی، ایک ذرا سی انگلی دبائی اور بس آپ اس ریاست کے اندر ہوتے ہیں۔ یعنی بادشاہوں کے بادشاہ، شہزادہ فیس بک مارک زوكربرگ کی سلطنت میں۔

بڑے بڑے رہنما، اداکار، مالک اور مزدور، چور، کوتوال، ٹی وی، اخبار کے تمام لوگ بغیر کسی دباؤ کے بغیر زور زبردستی کے خوشی خوشی ہنستے کھیلتے ان کی پناہ میں چلے آ رہے ہیں۔

صحیح معنوں میں اسے کہتے ہیں اچھے دن اور اچھا راج۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فیس بک پر ایک ارب 60 کروڑ لوگ ہیں

12سال پہلے جب ایک ہارورڈ کیمپس میں اس ریاست کی بنیاد رکھی گئی تھی تو اس کا مقصد تھا کالج کی گپ شپ شیئر کرنا اور وہاں پڑھنے والی لڑکیوں کی خوبصورتی کا اندازہ لگانا۔ لیکن اس وقت بادشاہ زوكربرگ دنیا پر حکومت کر رہے ہیں۔

لیکن خبر ہے کہ بادشاہ اب ٹوتھ پیسٹ اور ناریل تیل بیچ کر خوش نہیں ہے۔ ابھرتی اور ڈھلتی جوانیوں کی سیلفي اور ان کی تعریف سے وہ بور ہو رہے ہیں۔ پّپو ہنی مون منانے منالی گیا ہے یا گوا یہ سب شیئر کرتے کرتے وہ تنگ آچکے ہیں۔

سنا ہے اب وہ اس سب سے بڑا کھیل کھیلنے کے موڈ میں ہیں اور لوگوں کی فکر و سوچ پر قابو پانے کے جتن کر رہے ہیں۔ لوگ کس کے متعلق کیا سوچیں یہ بھی طے کرنے کی کوشش میں ہیں اور وہ بھی اتنے قریب سے خود سوچنے والے کو پتہ بھی نہ لگے کہ اس کی سوچ بدل دی گئی ہے یا اس پر کسی کا قبضہ ہو گیا ہے۔

اس ریاست کے اندر بھارت اور امریکہ جیسے چھوٹے چھوٹے قصبے اور محلے آباد ہوئے ہیں جہاں کے لوگ اکثر چار پانچ برس میں اپنا سربراہ منتخب کرتے ہیں۔ اڑتی اڑتی خبر ہے کہ بادشاہ کے پاس اب ایسا نسخہ ہاتھ لگ گيا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو لوگ ویسا ہی سربراہ منتخب کریں گے جو بادشاہ کی پسند کا ہو۔ اور اس نسخے کی خاصیت یہ ہے کہ لوگوں کو ایسا لگے گا کہ انھوں نے اپنے دل کی آواز سن کر اپنا سربراہ منتخب کیا ہے۔

یعنی اٹھتے، بیٹھتے، سوتے، جاگتے عوام کے آس پاس وہی باتیں ہوں گی، وہی تصاویر ہوں گی جو اس کی سوچ پر قبضہ کر لیں۔

بادشاہ کے ایک دو ملازم گذشتہ دنوں باغی ہو گئے تھے اور ان کے حوالے سے یہ خبر آئی ہے کہ بادشاہ نے اپنے نسخوں کو ٹیسٹ بھی کیا ہے۔ باغیوں کی مانیں تو انھوں نے اس نسخے کے ذریعے یہ کوشش کی ہے کہ امریکی انتخابات میں وہ اپنے پسندیدہ رہنما کے خلاف کھڑے امیدواروں کی باتیں لوگوں تک پہنچنے ہی نہ دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فیس بک پر دنیا کے تمام علاقوں سے لوگ ہیں

ان کے پاس ایسا نسخہ بھی ہے کہ بادشاہ کے چہیتے سربراہ کے گاؤں کی خوشحالی کی باتیں ہی ہوں اور بری باتیں كہنےوالے کے خلاف اتنے لوگ آواز اٹھائیں کہ اس کی بات جھوٹی لگنے لگے۔

یعنی اب کس گاؤں پر مودی کا راج ہو، کس گاؤں پر ٹرمپ کا، ممکن ہے کہ یہ فیصلہ بادشاہ کے باورچی خانے میں ہی طے ہو جائے۔

بہت اچھا ہے۔ آپ کی ایک اور پریشانی ختم ہو جائے گی اور آپ خوشی سے گنگناتے پھریں گے۔۔ ’چل بیٹا سیلفی لے لے رے۔‘

اسی بارے میں