’مینڈیلا سی آئی اے کی مخبری پر پکڑے گئے تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption سنہ 1962 میں جب ان کی کار کو پولیس نے ایک جگہ روکا تو اس وقت وہ ایک ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر ٹیکسی چلا رہے تھے وہیں پر انہیں حراست میں لے لیا گيا تھا

ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 1962 میں جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن مینڈیلا کی گرفتاری امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے کے ایک ایجنٹ کی فراہم کردہ معلومات کے نتیجے میں عمل میں آئی تھی۔

یہ انکشاف برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کیا گیا ہے جو سی آئی اے کے سابق ایجنٹ ڈونالڈ رکارڈ کے انتقال سے قبل کیے گئے ان کے ایک انٹرویو پر مبنی ہے۔

نیلسن مینڈیلا نے ملک میں سیاہ فاموں کے خلاف ہونے والے امتیازی سلوک اور انصاف کے لیے نسل پرست حکومت کے خلاف جد وجہد شروع کی تھیں جس پر حکومت نے انھیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا تھا اور وہ 27 برس قید میں رہنے کے بعد سنہ 1990 میں رہا ہوئے تھے۔

رہائی کے بعد وہ ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

جوہانسبرگ میں بی بی سی کی نامہ نگار کارین ایلین کا کہنا ہے کہ اس انٹرویو سے بظاہر وہ شک سچ ثابت ہو جاتا ہے کہ سی آئی اے نیلسن مینڈیلا کا پیچھا کیا کرتی تھی۔

ان کے مطابق اس سے سی آئی اے پر اس سے متعلق اپنی دستاویزات کو عام کرنے کا بھی دباؤ بڑھےگا جس سے مینڈیلا کی گرفتاری میں امریکہ کے شامل ہونے اور اس وقت کی نسل پرست حکومت کی حمایت کرنے سے متعلق اس کے کردار کے بارے میں بھی پتہ چل سکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جب مسٹر منڈیلا کو گرفتار کیا گیا تھا اس وقت وہ ایک ممنوعہ تنظیم افریقن نیشنل کانگریس کے تحت مسلح تحریک چلا رہے تھے

سی آئی اے کے ایجنٹ رکارڈ اس برس کے اوائل میں انتقال کر چکے ہیں۔ وہ سی آئی کے ساتھ باقاعدہ طور پر وابستہ نہیں تھے لیکن 70 کے عشرے میں جنوبی افریقہ میں سفارت کار کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔

سنڈے ٹائمز کے مطابق ان کا انٹرویو برطانوی فلم ہدایت کار جان ارون نے کیا تھا جنھوں نے مینڈیلا کی ابتدائی مسلح تحریک پر ’مینڈیلاز گن‘ نامی ایک فلم بھی بنائی تھی۔

جب نیلسن مینڈیلا کو گرفتار کیا گیا تھا اس وقت وہ افریقن نیشنل کانگریس کے تحت مسلح تحریک کی قیادت کر رہے تھے اور جنوبی افریقہ کے مطلوب ترین شخص تھے۔

مغرب انہیں متشدد بائیں بازو کے خیالات کا رہنما مانتا تھا جس سے مغربی ممالک خوف زدہ تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ WALTER DHLADHLA AFP Getty

سنہ 1962 میں جب ڈربن میں ان کی کار کو پولیس نے روکا تو وہ ڈرائیور کا روپ دھارے ہوئے تھے اور انھیں موقع پر ہی حراست میں لے لیا گيا تھا۔

رکارڈ نے اپنے انٹرویو میں بتایا: ’مجھے جب پتہ چلا کہ وہ آ رہے ہیں اور کیسے آ رہے ہیں۔ تو میں اس معاملے میں ملوث ہوا اور وہیں مینڈیلا کو پکڑا گیا تھا۔‘

افریقن نیشنل کانگریس کے ترجمان زی زی کڈوا نے اس انکشاف پر کہا: ’اس سے اسی بات کی تصدیق ہوتی ہے جس کا ہمیں پہلے سے علم ہے کہ وہ ہمارے خلاف کام کر رہے تھے اور آج بھی کر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں