پناہ گزینوں کا عالمی نظام ٹوٹ پھوٹ رہا ہے: انجلینا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انجلینا جولی پِٹ بی بی سی کے پروگرام ’ورلڈ آن دا موو‘ میں پناہ گزینوں کے متعلق بات کر رہی تھیں

اقوامِ متحدہ کی پناہ گزینوں کے متعلق خصوصی ایلچی انجلینا جولی پٹ نے خبردار کیا ہے کہ پناہ گزینوں کے لیے بنایا گیا عالمی نظام ٹوٹ رہا ہے۔

انجلینا جولی نے بی بی سی کے خصوصی پروگرام ’ولرڈ آن دا موو‘ سے بات کرتے ہوئے عالمی نقل مکانی کے مسئلے پر بات کی۔

انھوں نے کہا کہ تنازعات کی تعداد اور نقل مکانی کا پیمانہ اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ پناہ گزینوں کو تحفظ فراہم کرنے اور واپس بھیجنے کا نظام کام نہیں کر رہا۔

٭ پناہ گزینوں کا عالمی بحران کیا ہے: بی بی سی اردو سروس کا خصوصی ضمیمہ

٭ سونے کے دل والی یونانی خاتون

٭ یورپ بدنیتی کا مرتکب ہو رہا ہے: ایمنسٹی

انھوں نے کہا کہ 60 ملین سے زیادہ لوگ جس کا مطلب ہر 112 میں سے ایک ہے، عالمی طور پر بے گھر ہیں اور یہ گذشتہ 70 برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔

’یہ ہمیں دنیا میں امن اور سلامتی کے متعلق تشویشناک صورتِ حال سے آگاہ کرتا ہے۔ کسی بھی شخص کے بے گھر ہونے کی اوسط مدت اب 20 سال ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ برس دو کروڑ میں سے ایک فیصد سے بھی کم پناہ گزینوں کو کسی اور ملک میں بسایا گیا

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے متعلق ہائی کمیشنر نے کہا تھا کہ پناہ گزینوں کا بحران اب ایک عالمی رجحان ہے اور انھیں واپس بھیجنے کا راستہ اختیار کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

فلپی گرانڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ زیادہ ممالک کو فنڈنگ اور ان کی آباد کاری کو بڑھانے میں ’کچھ ممالک‘ کی مدد کرنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ برس دو کروڑ میں سے ایک فیصد سے بھی کم پناہ گزینوں کو کسی اور ملک میں بسایا گیا۔

اس سے پہلے تاریخ میں کبھی اتنے لوگوں کو جنگ اور مشکلات کی وجہ سے نہیں بھاگنا پڑا تھا۔

فلپی گرانڈی بی بی سی کی خصوصی لائیو کوریج میں حصہ لے رہے تھے جس میں اس بات کو جانچنے کی کوشش کی گئی تھی کہ کس طرح یہ بے مثال نقل و حرکت کا دور ہماری دنیا کی نئی شکل بنا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تاریخ میں کبھی اتنے زیادہ لوگوں کو جنگ اور مشکلات کی وجہ سے ملک چھوڑ کر نہیں جانا پڑا

اس سال جنوری میں اقوامِ متحدہ کا عہدہ سنبھالنے والے فلپی گرانڈی نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ شامی مشرقی ایشیا اور کریبیائی ممالک میں بھی پناہ گزین بن کر آ رہے ہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح یہ ایک عالمی رجحان بن گیا ہے اس لیے ہمیں اس پر ردِ عمل بھی عالمی سطح پر ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اب تک پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کا بوجھ ’کچھ ممالک پر ہی ہے جو لاکھوں پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کر رہے ہیں، جو کہ عموماً جنگ زدہ علاقوں اور تنازعات میں گھرے علاقوں کے قریب ہیں اور کچھ ڈونرز جو کہ سات یا آٹھ ہیں، اس کے لیے 80 یا 90 فیصد فنڈنگ دے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اسے زیادہ پھیلنا چاہیے، سب کو حصہ ڈالنا ہو گا، نہیں تو اس عدم توازن کا ردِ عمل بغیر سوچے سمجھے، بندشوں اور انکار کی صورت میں ہو گا اور آخر میں ہم پناہ گزینوں کی مدد کرنے کی اپنی ذمہ داری میں ناکام ہوں گے۔‘

اسی بارے میں