وہ کون شخص تھا؟

سٹیشن  پر سکیورٹی کیمروں کی تصاویر تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption جس شخص کی لاش یارکشائر کی پہاڑی پر ملی اس نے لندن کے اِیلنگ براڈوے سٹیشن سے ٹرین کا ٹکٹ خریدا، لیکن

یہ شخص کون تھا؟ مانچسٹر پولیس کو اب تک اس سوال کا جواب نہیں ملا ہے البتہ کچھ فورینزک معلومات ضرور سامنے آئی ہیں۔ کہانی عجیب سی ہے۔ گیارہ دسمبر 2015 کو یہ شخص، جس کی عمر لگ بھگ 65 سال تھی، لندن سے مانچسٹر گیا اور وہاں سے سیڈل ورتھ کےگاؤں پہنچا۔ اس نے ’پہاڑی کی چوٹی‘ کا راستہ پوچھا اور تیز بارش اور ٹھنڈ کے باوجود اس جانب چل پڑا۔ دوسرے دن، صبح کو اس کی وہاں سے لاش ملی۔

پولیس کی تفتیش اور مقامی اخبارات کی کوششوں سے سامنے آنے والی معلومات خاصی دلچسپ ہے۔ ابتدا میں پولیس کا خیال تھا کہ اس شخص کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہوگی، لیکن پھر فورینزمک معلومات سے پتہ چلا کہ اس کے جسم میں سٹِرکنِین نامی زہر بڑی مقدار میں موجود تھا۔ سمجھا جا رہا تھا کہ یہ ایک گورا انگریز شخص ہے لیکن پھر کچھ ایسے سراغ ملے جس سے پاکستان سے اس کا تعلق ظاہر ہوا۔ اس کی جیکٹ کی جیب سے تھائرائڈ کی دوائی کا پیکیٹ نکلا جو پاکستانی ساخت کا تھا۔ اس پیکیٹ کے اندر سے بھی زہر کے کچھ آثار ملے۔ پھر یہ ثبوت ملا کہ کسی سرجری کے دوران اس کی ران کی ہڈی یا ’فِیمر‘ میں ایک پلیٹ لگی تھی اور وہ بھی پاکستانی ساخت کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption اس شحص کی شناخت کرانے کے لیے پولیس نے یہ خاکہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے عام کیا گیا

اس سرجکل پلیٹ بنانے والی کمپنی سے پولیس نے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ آرتھویپیڈک پلیٹ آپرشین کے لیے پاکستان میں ہی دستیاب تھی اور یہ سنہ 2001 اور 2005 کے درمیانی عرصے میں لگی ہوگی۔

لیکن یہ شخص اپنی موت سے ملنے یارکشائر کے اس گنجان علاقے تک سفر کر کے کیوں آیا؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے مانچسٹر پولیس نے اپنی ابتدائی تفتیش کی بنیاد بنائی۔ کیا یہ شخص 1949 میں یہاں ہونے والے ہوائی جہاز کے جان لیوا حادثے میں زندہ بچنے والے دو بچوں میں سے ایک تھا؟ یا اسی یارکشائر مورز کے علاقے میں 1964 میں ایک جوڑے اِئین بریڈلی اور مائرا ہِنڈلی کے ہاتھوں کئی بچوں کے تشدد و قتل کے کیس سے اس کوئی تعلق تھا؟ دونوں سوالات کا جواب نفی میں ملا۔

تو پھر یہ شخص لندن کے اِیلنگ براڈوے ٹیوب سٹیشن سے (کنگز کراس سٹیشن لندن کے راستے ) مانچیسٹر کیوں گیا؟ اور پھر وہ سیڈل ورتھ کیوں پہنچا؟ اور پھر وہ ’پہاڑ کی چوٹی تک کیوں جانا چاہتا تھا؟

اب تک ملک میں کسی لاپتہ ہونے والے شخص کی پولیس رپورٹ سے اس کیس کو نہیں جوڑا جا سکا ہے۔ اس شحض کی جیب سے صرف دوائی کا پیکیٹ، نقد سو سے زیادہ پاؤنڈ کی رقم اور ٹرین کے ٹکٹ برآمد ہوئے۔ جیبوں سے کوئی شناختی کارڈ یا اور کوئی کاغذ جس سے اس کی شناخت کا پتہ لگ سکے نہیں ملا۔

البتہ کپڑے اچھے قسم کے پہنے ہوئے تھے، جو کے سب مارکس اینڈ سپینسرز سے خریدے ہوئے تھے۔ کالے رنگ کے ’بالی‘ برینڈ کے مہنگے ’لوفر‘ جوتے بھی پہنے ہوئے تھے۔

پولیس کے مطابق سیڈلورتھ پہنچ کر اس شخص نے دوپہر کے تقریباً دو بجے مقامی پب میں داخل ہو کر پب کے مالک سے راستہ پوچھا۔ بقول اس کے ’اُس نے پہاڑی کی چوٹی تک پہنچنے کا راستہ پوچھا۔‘ پب والے نے اسےراستہ بتا تو دیا لیکن ساتھ اسے خبردار کیا کہ تیز بارش میں وہاں جانا مشکل ہوگا اور وہ مغرب ہونے سے پہلے لوٹ بھی نہیں سکتا۔ پب کے مالک نے برطانوی اخبار دا گاڑڈئین سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بظاہر یہ شخص اِس بات پر ڈٹا ہوا تھا کہ اس کی منزل پہاڑی کی چوٹی ہی ہے۔

یہ شخص کون تھا اور یہ اپنی موت سے ملنے یارکشائر میں پہاڑی کی چوٹی تک کیوں گیا؟ کیا اس کا خاندان پاکستان میں ہے یا کیا اس کا کوئی خاندان ہے ہی نہیں؟ پولیس نے اس کا نام موقع کے قریبی ’ّڈاف سٹون ریزے وار‘ سے جوڑ کر ’نئیل ڈاف سٹون رکھ لیا ہے۔ لیکن اس شخص کا اصلی نام تھا کیا اور اس کی کہانی کیا ہے?

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*مانچیسٹر پولیس نے اپیل کی ہے کہ اگر آپ کو اس شخص کے بارے میں کوئی بھی معلومات ہو جس سے اس کی شناخت ہو سکے تو ان سے اس ای میل پتہ پر رابطہ کریں:

dovestones@gmp.police.uk

Image caption آخری سفر: مانچسٹر کا ٹکٹ خریدنےوالے ان صاحب کی شناخت پانچ ماہ بعد بھی نہیں ہو سکی

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں