پانے کے وار کر کے مگرمچھ سے جان بچائی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

شمالی آسٹریلیا میں ایک 72 سالہ شخص نے ریسکیو عملے کے ارکان کو بتایا ہے کہ انھوں نے اپنے دوست کو ڈوبتا دیکھنے کے بعد پانے اور سپارک پلگوں کی مدد سے مگرمچھوں سے لڑائی کی۔

منگل کی صبح دونوں افراد شمالی شہر ڈارون میں لیڈرز کریک کے مقام پر کیکڑے پکڑ رہے تھے کہ اچانک ایک مگرمچھ نے ان کی ’چھوٹی سی‘ کشتی کو الٹ دیا۔

ان میں سے ایک شخص دوبارہ کشتی پر آنے کی کوشش کرتے ہوئے ڈوب گیا۔ اس دوران دوسرا شخص تقریباً تین گھنٹے تک مگرمچھوں کے ساتھ گتھم گتھا رہا اور اس نے ایک مگرمچھ کے سر پر پانے سے وار بھی کیا۔

ایئر ایمبولینس کمپنی کے ترجمان این بیڈم نے اس شخص کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’مگرمچھ بار بار ان کی طرف پلٹ کر آتے رہے۔‘

وہ زمین پر واپس پہنچنے سے قبل جھاڑیوں میں چھپے رہے جس کے بعد کیکڑے پکڑنے والے پیشہ ور ملاح ان کے چیخنے پر مدد کو پہنچے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایک اندازے کے مطابق شمالی آسٹریلیا کے نمکین پانیوں میں مگرمچھوں کی تعداد ایک سے دو لاکھ کے درمیان ہے

وہ انھیں اور ان کے دوست کی لاش کو کشتیاں کھڑی کرنے والی جگہ پر لے گئے اور جب تک دیگر مچھیرے ایئر ایمبولینس تک پہنچے اس وقت تک ان کا ڈی ہائیڈریشن اور شدید صدمے سے نکالنے کے لیے علاج کیا جا چکا تھا۔

دونوں افراد کا تعلق وکٹوریا کے علاقے بینڈیگو سے ہے، اور وہ اپنی چھٹیوں پر وہاں آئے تھے۔

سنہ 2015 میں ککاڈو میں مچھلیاں پکڑتے ہوئے ایک شخص کی مگرمچھ کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے چھوٹی کشتیوں کو خطرناک قرار دے دیا گیا تھا۔

گذشتہ ماہ شمالی علاقوں کے میئر نے ایک شخص کی جانب سے مگرمچھ کی موجودگی کے بارے میں بتائے جانے کے بعد سے ایسے جانوروں کو ختم کرنے کا کہا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق شمالی آسٹریلیا کے نمکین پانیوں میں مگرمچھوں کی تعداد ایک سے دو لاکھ کے درمیان ہے۔

اسی بارے میں