وائکنگ ڈراموں کا ڈنمارک کی سیاحت پر مثبت اثر

Image caption سیاح عجائب گھروں میں موجود چیزوں کی حقیقی تاریخ سے زیادہ ان کا تعلق ان ڈراموں کی نسبت سے جوڑتے ہیں

اطلاعات کے مطابق وائکنگز کے بارے میں ٹی وی ڈراموں کی مقبولیت کی وجہ سے ڈنمارک کے تاریخی مقامات پر سیاحوں کی آمد پر مثبت اثر پڑا ہے۔

ملک کے آثارِ قدیمہ کے متعلقہ عملے نے سرکاری ٹی وی ڈی آر کو بتایا ہے کہ برطانیہ میں تیار کیے جانے والے ڈرامے ’لاسٹ کنگڈم‘ اور ہسٹری چینل کے ’وائکنگز‘ کی وجہ سے سیاحوں کی تعداد بڑھی ہے۔

ڈنمارک کے مشرقی شہر راسکلڈ میں واقع وائکنگ شپ میوزیئم میں آنے والوں کی تعداد گذشتہ برس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی ہے اور 2015 کے مقابلے میں اس برس یہاں 12 ہزار سیاح زیادہ آئے ہیں۔

اس عجائب گھر کے کیوریٹر لوئیس کیمپ ہینرکسن کا کہنا ہے کہ سیاح یہاں موجود چیزوں کی حقیقی تاریخ سے زیادہ ان کا تعلق ان ڈراموں کی نسبت سے جوڑتے ہیں اور اسی بارے میں سوال کرتے ہیں۔

’وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا وائکنگز سیریز میں بتائے جانے والے تاریخی واقعات کا حقیقت سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔‘

تاہم اس بارے میں ماہرین کے جوابات ان کی امیدوں کے مطابق نہیں ہوتے۔

فرائیکیٹ وائکنگ سینٹر کی کیوریٹر این میٹ گیلسگر پیڈرسن کا کہنا ہے کہ وہاں آنے والے امریکی سیاح اکثر وائکنگ ٹی وی سیریز کے مرکزی کردار ریگنر لوتھبروک کے بارے میں استفسار کرتے ہیں۔

’جب ہم انھیں بتاتے ہیں کہ یہ خیالی کردار ہے اور اس سیریز میں دکھائے جانے والے کئی کرداروں اور مقامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تو انھیں یہ بات پسند ہی نہیں آتی۔‘