اسرائیلی وزیر دفاع مستعفی، لائیبرمین کی حکومت میں ’واپسی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اسرائیلی وزیر دفاع موشے یالون نے اس وارننگ کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے کہ اسرائیل ’خطرناک اور انتہا پسند عناصر کے قبضے میں چلا گیا ہے‘۔

اس استعفے کا اعلان ایسے وقت ہوا ہے جب وزیرِ اعظم بنیامن نیتنیاہو، سخت گیر اویدگور لائبرمین کو اپنی مخلوط حکومت میں ممکنہ طور پر بطور وزیرِ دفاع شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس معاہدے سے وزیرِ اعظم نیتنیاہو کو ایک نشست کی برتری حاصل ہو جائے گی۔

اگر لائبرمین مخلوط حکومت میں شامل ہوتے ہیں تو اسرائیل کی تاریخ میں یہ انتہائی دائیں بازو کی پہلی حکومت ہو گی۔

اویدگور لائیبرمین سیاسی جماعت اسرائیل بیت نو کے رہنما ہیں جس کی پارلیمنٹ میں چھ نشتیں ہیں۔

سابق سوویت یونین کی ریاست مالدوا سے اسرائیل ہجرت کرنےوالے لائیبرمین فلسطینوں کے بارے میں اپنے سخت موقف کے لیے جانے جاتے ہیں۔

اویدگور لائیبرمین ماضی میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں اور 2014 میں اپنےخلاف بدعنوانی کے الزامات لگنے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو گئے تھے۔ لائیبرمین کو عدالت نے الزامات سے بری کر دیا ہے۔

وزیر دفاع یالون نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ’میں نے وزیر اعظم کو مطلع کر دیا ہے کہ ان کے رویے اور ان پر اعتماد کی کمی وجہ سے میں حکومت اور پارلیمنٹ سے مستعفیٰ ہو رہا ہوں اور سیاسی زندگی سے بھی رخصت لے رہا ہوں۔‘

وزیر اعظم نتن یایو اور وزیر دفاع موشے یالون کے مابین نائب چیف آف آرمی سٹاف کے ایک بیان کے بعد اختلافات میں اضافہ ہوگیا تھا۔ وزیر دفاع موشے یالون نے ڈپٹی چیف آف سٹاف کے اس بیان کا دفاع کیا تھا جس میں میجر جنرل یائر گولان نے کہا تھا کہ اسرائیلی سماج میں نازی جرمنی میں سنہ 1930 کی دہائی میں ہونے والے واقعات جیسے رجحانات موجود ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ mfa.gov.is
Image caption وزیر دفاع کے استعفے سے متنازعہ سیاستدان اویدگور لائیبرمین کی حکومت میں واپسی یقینی ہو چکی ہے

وزیر اعظم نتن یایو نے میجر جنرل یائر گولان کے خیالات کو غلط اور ’ناقابل قبول‘ قرار دیا تھا۔

اسرائیل میں یہ تبدیلی فرانس کے اس اعلان کے بعد آ رہی ہے کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرانے کی غرض سے تین جون کو ایک کانفرنس کا انعقاد کرائے گا۔

اسی بارے میں