خود کشی کے منظر کو براہِ راست دکھانے پر تشویش

تھائی لینڈ کے ٹی وی چینلوں کی جانب سے ایک شخص کی خود کو مارنے لینے کی دھمکی کو گھنٹوں براہِ راست نشر کرنے پر میڈیا کی اخلاقیات کے بارے عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

تھائی لینڈ میں وانچی ڈینائیتامونٹ نامی شخص نے جمعرات کو کئی بار دھمکی دی تھی کہ وہ خود کو گولی مارنے والا ہے۔ یہ منظر مقامی ٹی چینلز پر براہِ راست دکھایا جا رہا تھا۔

اس موقع پر تھائی لینڈ کی میڈیا ریگولیٹر نے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ٹی وی چینلز کو حکم دیا کہ وہ اس واقعہ کی براہِ راست کوریج روک دیں۔

انتظامیہ کے ساتھ سخت مذاکرات کے باوجود وانچی ڈینائیتامونٹ نے اچانک ہی اپنے سر میں گولی مار لی اور بعد میں ہسپتال پہنچ کر مر گیا۔

60 سالہ وانچی ڈینائیتامونٹ نے جب پستول کو براہِ راست اپنے سر پر رکھا تو کچھ چینلوں نے اس منظر کو دہندھلا کر دیا اور ان کی جانب سے اپنے سر پر گولی چلانے کے منظر کو براہِ راست نشر نہیں کیا تاہم چند دیگر چینلوں نے نہ صرف اس تمام منظر کو کئی گھنٹوں تک براہِ راست دکھایا بلکہ اپنے سوشل میڈیا چینلوں پر بھی نشر کیا۔

بینکاک کی چولانگ یونیورسٹی کے شعبۂ جرنلزم کے سربراہ پروفیسر پیراگرانگ رام سوتا کا کہنا ہے کہ یہ بہت ممکن تھا کہ ہم حقیقی خود کشی دیکھیں۔

ان کا کہنا تھا ’ تھائی لینڈ کا میڈیا بعض اوقات لوگوں کے نام نہاد تجسس کے مرض کو توجہ دینے کی کوشش کرتا ہے۔‘

خیال رہے کہ وانچی ڈینائیتامونٹ پر بدھ کو بینکاک کی یونیورسٹی میں ایک گریجویٹ طالب علم کے سامنے اپنے دو ساتھیوں کو مارنے کا شک کیا گیا تھا۔

مقامی میڈیا اور پولیس کا کہنا ہے کہ وانچی ڈینائیتامونٹ کا مارے جانے والے دو افراد کے ساتھ پیشہ ورانہ اختلاف تھا۔

اس واقعہ کے بعد وانچی ڈینائیتامونٹ وہاں سے بھاگ کر ایک ہوٹل چلے گئے جہاں پولیس نے ان کا سراغ لگانے کے بعد انھیں گرفتار کر لیا۔

وانچی ڈینائیتامونٹ نے انتظامیہ کے ساتھ چھ گھنٹوں کے طویل مذاکرات کے بعد جس میں ان کے خاندان اور سابق ساتھیوں کی اپیلیں بھی شامل تھیں مقامی وقت کے مطابق 18:45 پر خود کشی کر لی۔

تھائی لینڈ کی قومی براڈکاسٹنگ ٹیلی کمیونیکیشن کمیشن (این بی ٹی سی) نے اس واقعہ کے کچھ گھنٹوں بعد ٹی وی چینلوں کو وارننگ جاری کی۔ این بی ٹی سی نے تمام ٹی وی چینلوں کو حکم دیا کہ وہ اس منظر کو براہِ راست نشر کرنا بند کرے۔

این بی ٹی سی کے ایک رکن نے بینکاک پوسٹ کو بتایا ایک ایسے حساس واقعے کو براہِ راست نشر کرنے سے امن و امان پر اثر پڑ سکتا تھا اور اسے ایک ایکٹ کے طور پر شمار کیا جاتا۔

این بی ٹی سی عام طور پر عوام کی شکایات پر کارروائی کرتی ہے تاہم پروفیسر رام سوتا کے مطابق اس واقعہ سے اس بات کا تصور کیا گیا تھا کہ اس سے’امنِ عامہ کو خطرہ‘ تھا اور ’اس پر خصوصی کارروائی پر غور کیا جانا چاہیے۔‘

پروفیسر رام سوتا نے کہا اگر ٹی وی چینلز تھائی لینڈ کے میڈیا کے قوانین کی دفعہ 37 کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائیں تو ان پر جرمانہ یا ان کا لائسنس ختم کیا جا سکتا ہے۔

پروفیسر رام سوتا کے مطابق تھائی لینڈ میں گذشتہ دو سالوں کے دوران نیوز چینلز کی تعداد بڑھنے سے اب وہاں شدید مقابلے کا رحجان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ ٹی وی چینلز اس طرح کے مناظر دکھانے پر مجبور ہوتے ہیں اور جب ایک یا دو ٹی وی چینلز ایسے مناظر براہِ راست دکھانا شروع کرتے ہیں تو باقی چینلز بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔

تھائی براڈ کاسٹ جرنلسٹس ایوسی ایشن کے صدر اور روزنامہ ’دی نیشن‘ کے ایڈیٹر انچیف پیپچائی یونگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک صحافی کے طور پر ہم نے کل جو مناظر دیکھے وہ بنیادی اخلاقیات کے منافی تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دی نیشن جیسے پرانے ادارے حکومتی گائیڈ لائنز کو فالو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم نئے ادارے ایسے نہیں کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کل والا واقعہ تھائی لینڈ کی براڈ کاسٹ انڈسٹری کے لیے نیا تجربہ تھا، اس میں ٹی وی چینلز کے لیے یہ قدرتی بات ہے کہ وہ وہی کچھ دکھائیں جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس بات پر غور کیے بغیر کہ ان کی ٹی وی سکرین پر کیا دکھایا جا رہا ہے۔؟