ترکی کے ارکان پارلیمان کا مقدموں میں استثنیٰ ختم

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ترکی کی پارلیمان نے وہ متنازع بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت ارکان پارلیمان کو کسی بھی مقدمے میں دیا گیا استثنیٰ ختم کر دیا گیا ہے۔

کرد نواز قانون سازوں کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ اپوزیشن کے ارکان کو پارلیمان سے نکالنے کا ایک اقدام ہے۔

* کرد تنظیم ترکی کے خلاف ’جنگ میں تیزی لانے کے لیے تیار‘

حکومتی اقدام کو کرد نواز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ ساتھ حزبِ مخالف کی اہم جماعت رپبلکن پیپلز پارٹی کو نشانہ بنانے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ترکی کی حکومت کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے خلاف کارروائی کرتی آئی ہے۔

حکومت پی کے کے پر دہشت گرد گروہ ہونے کا الزام عائد کرتی ہے۔

حکومت اور (پی کے کے) کے درمیان جون سنہ 2015 کے انتخابات کے چند ہفتوں کے بعد جنگ بندی ختم ہو گئی تھی۔ اس کے بعد شروع ہونے والے تنازعےکے نتیجے میں اب تک دونوں جانب سے ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کا تعلق ملک کے جنوب مشرقی حصے سے ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو پی کے کے کی سیاسی شاخ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔

پارلیمان سے منظوری کے بعد اس اقدام کو اسی جانب پہلا قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

رجب طیب اردوغان نے اپنے آبائی علاقے میں ایک ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمان سے اس بل کی منظوری کو ’تاریخی‘ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا ’میرے لوگ اس پارلیمان میں مجرم قانون سازوں کو نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد حکمران اے کے پارٹی کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اسمبلی میں ایگزیکٹو صدارتی نظام کے لیے اپنی حمایت کو مزید مضبوط بنانا ہے جس کا اطلاق صدر اردوغان چاہتے ہیں۔

دوسری جانب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما نے اس اقدام کو عوام کی خواہشات کے خلاف قرار دیا ہے جسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت اس فیصلے کو ترکی کی اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرے گی۔

اسی بارے میں