مصری طیارے کے حادثے سے پہلے ’کیبن میں دھواں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حادثے سے قبل ٹوائلٹ میں دھوئيں کا پتہ چلا تھا

اطلاعات کے مطابق مسافر بردار مصری طیارے کے جمعرات کو بحیرۂ روم میں حادثے کا شکار ہونے سے قبل اس کے کیبن سے دھوئیں کے الرٹ ملے تھے۔

ایوی ایشن ہیرلڈ کی ویب سائٹ پر شائع رپورٹ کے مطابق طیارے کا سنگل منقطع ہونے سے چند منٹ قبل ٹوائلٹ اور طیارے کے بجلی کے نظام میں میں دھوئیں کا پتہ چلا تھا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانسیسی تفتیش کاروں نے بھی ان اطلاعات کر دی ہے۔

٭ مصر کے لاپتہ طیارے کا ’ملبہ بحیرۂ روم سے مل گیا‘

٭ لاپتہ طیارے کی دو دن سے تلاش (تصاویر)

ایجپٹ ایئر کی پرواز ایم ایس 804 پیرس سے قاہرہ جاتے ہوئے یونان کے جزیرے کیرپاتھوس کے قریب لاپتہ ہوگئی تھی۔ اس میں 66 افراد سوار تھے۔

ایوی ایشن ہیرلڈ نے کہا ہے کہ انھیں ایئرکرافٹ کمیونیکیشن ایڈریسنگ اینڈ رپورٹنگ سسٹم (اے سی اے آر ایس) کے ذریعے تین آزاد ذرائع سے یہ تفصیلات ملی ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق دو بج کر 26 منٹ پر ایک ایئر بس اے 320 کے ٹوائلٹ میں دھواں دیکھا گیا۔

ایک منٹ بعد دھوئیں کا الرٹ جاری کیا گیا۔

ہوا بازی کے شعبے کی ویب سائٹ کے مطابق دو بجر کر 29 منٹ پر آخری اے سی اے آر ایس پیغام حاصل ہوا اور اس کے چار منٹ بعد طیارے سے رابط منقطع ہو گيا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPAEgyptian Defense Ministery
Image caption مصر کے تلاش کرنے والوں کو مسافروں کا کچھ سامان مصر کے ساحلی شہر اسکندریہ سے 290 کلومیٹر کےفاصلے پر سمندر سے ملا ہے

خیال رہے کہ اے سی اے آر ایس کا استعمال معمول کے طور پر پرواز کے متعلق اعدادوشمار کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔

ایویئشن سکیورٹی انٹرنیشنل میگزن کے مدیر فلپ بام نے بی بی سی کو بتایا کہ تکنیکی خرابی سے انکار نہیں کیا جا سکتاہے۔

انھوں نے کہا: ’پہلے طیارے کے ٹوائلٹ میں دھوئیں کی اطلاع ملی پھر طیارے کی راہداریوں میں اور پھر تین منٹ میں طیارے کا نظام بند ہو جاتا ہے۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ شاید اسے ہائی جیک نہیں کیا گیا اور نہ ہی کاک پٹ میں کسی قسم کی جدوجہد تھی، غالب امکان ہے کہ طیارے میں آگ لگی ہو۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں یہ نہیں معلوم کہ یہ آگ تکنیکی خرابی یا شارٹ سرکٹ کے سب لگی تھی یا پھر کوئی بم طیارے میں پھٹا تھا۔‘

اس سے قبل یونان نے کہا تھا کہ ایئربس اے 320 نے تیزی سے دو قلابازیاں کھائی تھی اور بحرروم میں گرنے سے قبل 25 ہزار فٹ نیچے آ گئی تھی۔

مصری اور یونانی حکام کے مطابق طیارے کا ملبہ جمعے کو مل گیا ہے اور مصر کے تلاش کرنے والوں کو مسافروں کا کچھ سامان مصر کے ساحلی شہر اسکندریہ سے 290 کلومیٹر کےفاصلے پر سمندر سے ملا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طیارے پر سوار مسافروں کے لواحقین صدمے میں

یورپی سپیس ایجنسی کے سیٹلائٹ کو طیارے کے غائب ہونے کی جگہ تیل کے چھلکنے کے نشانات ملے ہیں لیکن ادارے کا کہنا ہے کہ یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ طیارے سے ہی نکلے تھے۔

ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق اب فلائٹ ریکارڈر کی تلاش جاری ہے۔ مصری صدر عبدالفتح السیسی نے طیارے کے حادثے کے پر ’گہرے دکھ اور افسوس‘ کا اظہار کیا ہے۔

اس سے قبل مصر کی سول ایوی ایشن کے وزیر نے کہا ہے کہ ’تکنیکی خرابی سے زیادہ دہشت گردی کا ممکنہ خطرہ زیادہ ہے۔‘

جبکہ دوسری جانب فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اس بات کا قطعی طور پر کوئی اشارہ نہیں کہ آخر طیارہ کیوں گرا۔

اسی بارے میں