مشرق وسطیٰ میں اقوام متحدہ کے 300 سے زیادہ سکول تباہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

گذشتہ پانچ سالوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام چلنے والے سکولوں میں سے تقریباّ نصف سکولوں کو یا تو حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے یا یہ اتنے ناکارہ ہو چکے ہیں کہ انھیں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بات بی بی سی کو ملنے والی اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔

فلسطینی مہاجرین کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کی ذیلی ایجنسی ’یو ان آر ڈبلیو اے‘ کی اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سکولوں کی تباہ حالی کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں ہزاروں بچوں کی تعلیم متاثر ہو چکی ہے۔

پانچ سالوں کے دوران اقوام متحدہ کے تین سو سے زیادہ سکولوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا یا انھیں بند کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق شام میں ادارے کے نصف سے زیادہ سکول ابھی کسی کے استعمال میں نہیں ہیں۔ ان میں سے کچھ سکول تباہ کر دیے گئے ہیں، کچھ تک جنگ کی وجہ سے رسائی ختم ہو گئی ہے جبکہ کچھ سکول مہاجرین کو پناہ دینے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

شام میں زیادہ تر سکولوں کا ساز و سامان لوٹ لیا گیا ہے اور گذشتہ پانچ سالوں میں چار سو سے زیادہ اساتذہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں اقوام متحدہ کے سکول
  • اقوام متحدہ غزہ کی پٹی، غرب اردن، اردن اور شام میں کل 692 بنیادی اور پرائمری اور لبنان میں آٹھ سیکنڈری سکول چلا رہا ہے۔
  • اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطینی مہاجرین کے پانچ لاکھ بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔
  • گذشہ پانچ سالوں میں اقوام متحدہ کے کم از کم 302 (44 فیصد) سکول براہ راست مسلح تصادم اور دہتشگردی سے متاثر ہوئے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین کے سربراہ پیاخ کارنبل نے مشرق وسطیٰ میں تمام متحارب فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ سکولوں کی غیر فوجی حیثیت کا احترام کریں اور بچوں، اساتذہ اور امدای کارکنوں کو اپنی لڑائی سے باہر رکھیں۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سکول بچوں کو استحکام اور امید دلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن سکولوں کی تباہی کے ان بچوں پر بہت برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں