پرواز ایم ایچ 17 کے متاثرین کا پوتن کے خلاف مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ملائشیا ایئرلائن کی پرواز ایم ایچ 17 کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین یورپی عدالت برائے انسانی حقوق میں روس اور صدر ولادی میر پوتن کے خلاف مقدمہ دائر کر رہے ہیں۔

یہ جیٹ طیارہ 2014 میں مشرقی یوکرین کے اوپر پرواز کرتے ہوئے روسی ساختہ میزائل کی مدد سے مار گرایا گیا تھا اور اس پر سوار تمام 298 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مغربی ممالک اور یوکرین کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے روس نواز باغیوں کا ہاتھ ہے، تاہم روس یوکرین کی فوج پر الزام عائد کرتا ہے۔

٭ ملائیشین طیارہ روسی ساختہ میزائل کا نشانہ بنا تھا

آسٹریلوی ویب سائٹ نیوز ڈاٹ کام ڈاٹ اے یو کے مطابق خاندانوں کا دعویٰ مسافروں کی زندگی کی حق کی پامالی کی بنیاد پر دائر کیا گیا ہے۔

یہ دعویٰ ہر ہلاک شدہ فرد کے لیے ایک کروڑ آسٹریلوی ڈالر (72 لاکھ امریکی ڈالر) پر مشتمل ہے، اور اس میں روسی ریاست اور صدر کا نام بطور مدعا علیہان درج ہے۔

یہ مقدمہ امریکہ سے تعلق رکھنے والے ہوابازی سے متعلق وکیل جیری سکنر لڑ رہے ہیں۔ انھوں نے نیوز ڈاٹ کام ڈاٹ اے یو کو بتایا کہ لواحقین کے لیے یہ جانتے ہوئے زندگی گزارنا مشکل ہے کہ یہ ایک ’جرم‘ تھا۔

’روسیوں کے پاس یوکرین کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے کوئی شواہد نہیں ہیں۔ ہمارے پاس حقائق، تصاویر، یادگاریں اور دوسری بےشمار اشیا موجود ہیں۔‘

درخواست میں 33 لواحقین کا نام درج ہے جس میں آٹھ آسٹریلوی، ایک نیوزی لینڈر اور بقیہ ملائشیائی باشندے شامل ہیں۔

ایم ایچ 17 یوکرینی حکومت اور روس نواز باغیوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران تباہ ہوا تھا۔

گذشتہ برس ایک ولندیزی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ اسے روسی ساختہ بک میزائل کی مدد سے گرایا گیا تھا تاہم رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ اسے کس نے فائر کیا تھا۔

حادثے میں ہلاک ہونے والے بیشتر مسافروں کا تعلق نیدرلینڈ سے تھا۔

اسی بارے میں