ایشیائیوں کی پولیس میں بھرتی کی مہم

برطانیہ کی ویسٹ یارکشائر پولیس نے ایشیائی کمیونٹی کو پولیس میں زیادہ نمائندگی دینے کےلیے بھرتی کی مہم شروع کی ہے۔

ویسٹ یارکشائر پولیس کی حدود میں پاکستانی، انڈین اور بنگلہ دیشی نژاد شہریوں کا آبادی میں تناسب 18 فیصد ہے جبکہ پولیس میں ایشیائی نژاد اہلکاروں کی تعداد صرف پانچ فیصد ہے۔

پولیس میں بھرتی کی مہم ان ایشیائی نژاد آبادیوں کی پولیس میں نمائندگی کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

پولیس کانسٹیبل امجد دتا بریڈفورڈ کے ایک کالج میں منعقدہ کریئر فیئر میں شریک ہیں۔ان کا یہاں آنے کا مقصد متنوع پس منظر کے لوگوں کو پولیس میں بھرتی کرنا ہے۔

’ہماری پولیس میں تنوع کی کمی ہے۔ ہم جس کمیونٹی کی خدمت کرتے ہیں ہمیں اس کی نمائندہ ہونا چاہیے۔ میرے فرائض میں ہے کہ میں باہر جاؤں اور اس کمیونٹی سےبات کروں جن کی (پولیس) میں نمائندگی کم ہے اور معلوم کروں کہ ایسا کیوں ہے؟

ایسا کیوں ہے؟

امجد دتا اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ ’ہمیں درخواست دینے والوں کو صرف قائل نہیں کرنا بلکہ ان کے خاندانوں کو قائل کرنا ہے جن کا آبائی ملکوں میں پولیس کے بارے میں تجربہ شاید برا تھا۔ کچھ کا خیال ہے کہ وہ نسل پرست اور اخلاقی طور پر گرواٹ کا شکار ہیں۔

میں پچھلے دس برسوں سے پولیس میں ہوں اور اب اس پوزیشن میں ہوں کہ میں ساری زندگی کے لیے پولیس میں رہ سکتا ہوں۔ میں یہاں یہ کہنے کے لیے آیا ہوں اگر میرے لیے یہ ممکن ہے تو آپ بھی کر سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC asian

بی بی سی ایشین نیٹ ورک نے پولیس میں بھرتی کے حوالے سے ایشیائی نوجوانوں سے بھی بات کی۔

قیصر ان نوجوانوں میں سے ہیں جو کالج سے تعلیم کے اختتام پر پولیس میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

’میں یقیناً پولیس کے لیے کام کرنا چاہوں گا۔ وہ اچھی تنخواہ دیتے ہیں اور پولیس میں کام کرنےکے فوائد ہیں۔‘

فاطمہ بھی ایک طالبعلم ہیں اور وہ بھی یارکشائر پولیس جوائن کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ وہ ان ایشیائی لوگوں کے بارے میں کیا سوچتی ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ پولیس کوپسند نہیں کرتے یا انھیں اس پر کوئی اعتبار نہیں ہے۔

فاطمہ کہتی ہیں :’سچ پوچھیں تو پوری کہانی کو سمجھنے کے لیے آپ کو پوری کہانی معلوم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ صرف اخباروں میں کچھ پڑھ لیں۔‘

یارکشائر برطانیہ کی پولیس سروسز میں سے چوتھی بڑی سروس ہے جس کے ساڑھے چار ہزار افسران ہیں۔

اسی بارے میں