امریکی جوہری مرکز میں اب بھی فلاپی ڈسک کا استعمال

تصویر کے کاپی رائٹ ADAM BUTLER
Image caption رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس پرانی تکنیک کو سنبھال کر رکھنے میں سالانہ تقریبا 61 ارب ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں

حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کے جوہری ہتھیاروں کے مرکز میں اب بھی 70 کے عشرے کے دوران استعمال میں آنے والے پرانے کمپیوٹرز اور فلاپی ڈسک ہی استعمال کی جاتی ہیں۔

’دی گورنمنٹ اکاؤنٹیبلٹی آفس‘یا احتساب کے ادارے کا کہنا ہے کہ پینٹاگون بھی ان محکموں سے ایک ہے جس میں ’وراثتی نظام‘ کو فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس پرانی ٹیکنالوجی کی دیکھ بھال پر ٹیکس دینے والوں کے سالانہ تقریباً61 ارب ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق محکہ دفاع، جو بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں، جوہری بم اور ٹینکرز سپورٹ ایئرکرافٹ جیسے بڑے ہتھیاروں کے نظام کی دیکھ بھال کرتا ہے، اب بھی ’سنہ 1970 کے دور کے آئی بی ایم کی سیریز 1 کے کمپیوٹر پر چلتا ہے جس میں آٹھ انچ کی فلاپی ڈسک استعمال ہوتی ہے۔‘

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ویلیری ہینڈرسن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو اس سلسلے میں بتایا کہ’یہ سسٹم اب بھی اس لیے استعمال میں ہے کیونکہ مختصراً یہ اب بھی کام کرتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

ان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک پرانی فرسودہ چیزوں پر تشویش کا سوال ہے تو فلاپی ڈرائیو جیسی اشیا کو 2017 تک تبدیل کر کے اس کی جگہ محفوظ ڈیجیٹل آلات نصب کر دیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا: ’پورے جوہری کمانڈ، کنٹرول اور مواصلات کے نظام کو جدید بنانے کا کام پہلے ہی سےجاری ہے۔‘

سرکاری رپورٹ کے مطابق پینٹاگون 2020 تک اپنے مکمل پرانے نظام کو نئے میں تبدیل کر لےگا۔

اس سرکاری رپورٹ کے مطابق امریکہ کے محکمہ خزانہ کو بھی اپنے سسٹم کو فوری طور پر اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق محکمہ خزانہ بھی کمپیوٹر کی پرانی ’اسمبلی لنگویج کوڈ‘ کا استعمال کرتا ہے جو سنہ 1950 کے دوران استعمال ہوتا تھا۔

اسی بارے میں