دولتِ اسلامیہ کا اہم کمانڈر فلوجہ میں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کا اہم کمانڈر فلوجہ میں اتحادیوں کی فضائی کارروائی میں ہلاک ہو گیا ہے۔

امریکی کرنل سٹیون وارن کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں 70 دیگر شدت پسند بھی مارے گئے۔

٭ فلوجہ میں عام شہریوں کو ’بڑا خطرہ‘ ہے: اقوامِ متحدہ

٭ فلوجہ کی’آزادی‘ کے لیے دولتِ اسلامیہ کے خلاف آپریشن شروع

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چار دنوں کے دوران 20 سے زائد فضائی کارروائیوں میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

کرنل وارن کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے کمانڈر ماہر البلاوی فضائی کارروائی کے دوران ہلاک ہو گئے۔

امریکہ کرنل نے خبر دار کیا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ دولتِ اسلامیہ سے فلوجہ کو واپس لینے کے لیے جنگ کتنا عرصہ جاری رہے گی۔؟

کرنل وارن کے مطابق فلوجہ میں اس وقت 50,000 عام شہری پھنسے ہوئے ہیں اور انھیں فضا سے چھپے ہوئے صفحات گرا کر بتایا گیا ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ کے علاقوں میں جانے سے گریز کریں اور اپنی چھتوں پر سفید کاغذ کی شیٹ لگائیں۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اسے ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ فلوجہ میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں اور انھیں دولتِ اسلامیہ کی جانب سے لڑنے سے انکار کرنے پر ہلاک کیا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی خاتون ترجمان ملیسا فلیمنگ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ایسی ڈرامائی اطلاعات ہیں کہ دولتِ اسلامیہ مردوں اور بڑی عمر کے لڑکوں کو ان کی جانب سے نہ لڑنے کے انکار کے بعد انھیں ہلاک کر رہی ہے۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے ترجمان سٹیفان ڈیوزہوریک نے عراقی فورسز کی فلوجہ میں دولتِ اسلامیہ سے لڑائی کے ساتھ ہی شہر میں موجود 50,000 شہریوں کے بارے میں تشویش ظاہر کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ فلوجہ میں موجود عام شہریوں کو ’بڑا خطرہ‘ ہے۔ انھوں نے ان کے شہر سے نکلنے کے لیے محفوظ راستے کے حصول کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔

عراقی فوج، پولیس اور ملیشیا نے پیر کو بغداد کے مغرب میں 50 کلو میٹر دور فلوجہ شہر کو دولتِ اسلامیہ سے واپس لینے کے لیےکارروائی شروع کی تھی۔

اس شہر پر دولتِ اسلامیہ کا قبضہ عراق اور شام میں کسی بھی شہر پر سب سے زیادہ طویل قبضہ ہے۔

اسی بارے میں