یونانی علاقے میں عورتوں کے داخلے پر پابندی کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES

روسی صدر ولادی میر پوتن یونان کے کوہِ ایتھوس پر وہاں روسی آرتھوڈاکس فرقے کے راہبوں کی ایک ہزار سال سے موجودگی سے متعلق ہونے والی تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں۔

یہ پہاڑ 335 مربع کلومیٹر کے جزیرہ نما میں واقع ہے، اور یہ ممکنہ طور پر دنیا کا سب سے بڑا علاقہ ہے جہاں عورتوں، حتیٰ کہ مادہ جانوروں تک کا داخلہ ممنوع ہے۔

اگر آپ کوہِ ایتھوس جائیں تو سب سے پہلے آپ کو اپنا پاسپورٹ وہاں کے پلگرم بیوریو میں جمع کروانا پڑے گا۔ ہر روز ایک سو آرتھوڈاکس اور دس غیر آرتھوڈاکس سیاحوں کو جزیرہ نما کی 20 خانقاہوں میں ٹھہرنے کی اجازت ملتی ہے۔

یہاں ایک ہزار برس سے عورتوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔

اس جزیرہ نما کے بارے میں ایک کتاب کے مصنف ڈاکٹر گریم سپیک کے مطابق دسویں صدی عیسوی میں منظور کیے جانے والے ایک چارٹر کے تحت صرف مادہ جانوروں کا داخلہ ممنوع قرار پایا تھا۔ اس میں عورتوں کا ذکر نہیں تھا کیوں کہ ’ہر کسی کو معلوم ہے کہ مردوں کی خانقاہوں میں عورتوں کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔‘

اس کا مقصد راہبوں کی تجرد کی زندگی برقرار رکھنا تھا۔ تاہم ڈاکٹر سپیک کے مطابق جو چیز اس علاقے کو دوسری خانقاہوں سے ممتاز بناتی ہے وہ یہ ہے کہ تمام جزیرہ نما کو ایک ’انتہائی بڑی خانقاہ کا درجہ حاصل ہے۔‘

عورتوں کے داخلے پر پابندی کی ایک اور وجہ بھی ہے۔

ڈاکٹر سپیک کہتے ہیں: ’جب بی بی مریم قبرص سے سمندری سفر پر نکلیں تو طوفانی ہواؤں نے ان کی کشتی بھٹکا دی اور وہ کوہِ ایتھوس کے ساحل سے جا لگی۔ یہ علاقہ انھیں اس قدر پسند آیا کہ انھوں نے اپنے بیٹے سے دعا کی یہ انھیں دے دیا جائے۔ یہ دعا قبول ہو گئی۔

’اس علاقے کو اب بھی ’خدا کی ماں کا باغ‘ کہا جاتا ہے، اس لیے صرف وہی یہاں اپنی صنف کی نمائندگی کر سکتی ہیں۔

اسی بارے میں