والدین نے سات سالہ بچے کو’بطور سزا‘جنگل میں چھوڑ دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Kyodo
Image caption بچے کے والدین بچے کو چھوڑ کر تقریباً پانچ سو میٹر دور گئے تھے

شمالی جاپان کے پہاڑوں میں لاپتہ ہونے والے سات سالہ بچے کے والدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسے بطور سزا جنگل میں اکیلا چھوڑ دیا تھا۔

130 سے زائد پولیس اہلکار اور سکول کا عملے کے ارکان اس بچے کی تلاش کر رہے ہیں۔

بچے کے والدین نے اسے شمالی ہوکیدو کے علاقے میں چھوڑ دیا تھا جس کے بعد سے وہ دو دن تک لا پتہ رہا۔ یہ علاقہ جنگلی ریچھوں کا گھر سمجھا جاتا ہے۔

بچے کے والد نے سینکی اخبار کو بتایا کہ ’میں اس کو نظم و ضبط سکھانا چاہتا تھا چنانچہ میں نے اس کو ڈرانے کے لیے گاڑی سے باہر نکال دیا۔ وہ ایک پھرتیلا بچہ ہے لیکن میں اب اس کے بارے میں فکرمند ہوں۔‘

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ بچے نے قریب ہی واقع ایک پارک میں سیر کے دوران گاڑیوں اور لوگوں پر پتھر پھینکے تھے اس لیے انھوں نے سختی کی۔

اس سے قبل بچے کے والدین نے پولیس کو بتایا تھا کہ جب وہ سبزی لینے گئے تھے اس وقت ان کا بچہ گم ہو گیا تھا۔

تاہم بعد میں انھوں نے تسلیم کیا کہ انھوں نے بچے کو بطور سزا پانچ منٹ کے لیے اکیلا چھوڑ دیا تھا لیکن جب وہ واپس آئے تو وہ وہاں موجود نہیں تھا۔

ایمرجنسی سروسز کے عملے کے سینکڑوں ارکان بچے کو تلاش کرنے کے لیے علاقے میں گھوم رہے ہیں۔

آساہی ٹی وی کے مطابق بچے کے والدین بچے کو چھوڑ کر تقریباً پانچ سو میٹر دور گئے تھے۔

اسی بارے میں