تارکین وطن کی کشتیاں الٹنے سے’700 سے زیادہ ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اٹلی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی کشتیوں نے اس ہفتے تقریباً 13,000 تارکین وطن کو بچایا

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیں کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند دنوں میں لیبیا کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتیوں کے حادثات میں سات سو سے زائد افراد ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔

یورپ پہنچنے کی کوشش میں تارکین وطن کی یہ کشتیاں بدھ، جمعرات اور جمعے کو اٹلی کے جنوب میں ڈوب گئی تھیں۔

موسم بہار میں افریقہ سے یورپ پہنچنے کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اٹلی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی کشتیوں نے اس ہفتے تقریباً 13,000 تارکین وطن کو بچا لیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیں کی ترجمان کارلوٹا سمی کے مطابق بدھ کو سمگلروں کی کشتی کے الٹنے کے بعد تقریناً 100 تارکین وطن لاپتہ ہیں۔

ترجمان کے مطابق بدھ کو لیبیا کی بندرگاہ سبراتھا سے نکلنے والی کشتی جمعرات کی صبح الٹ گئی جس سے 550 کے قریب مزید تارکین وطن لاپتہ ہوگئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Marina Militare via AP
Image caption موسم بہار میں افریقہ سے یورپ پہنچنے کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے

انھوں نے بتایا کہ تیسری کشتی کو حادثہ جمعے کو پیش آیا جس میں 135 افراد کو بچا لیا گیا جبکہ پانی سے 45 لاشوں کو نکالا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ تاحال لاپتا ہونے والوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی فلاحی طبی ادارے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا کہنا کہ ایک ہفتے کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 900 تک پہنچ سکتی ہے۔

حادثات میں بچ جانے والوں کا اٹلی کے ساحلی علاقوں ٹارانٹو اور پوزالو پہنچایا جارہا ہے۔

ادھر اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کو لیبیا کے ساحل کے قریب سے یورپی یونین کے کشتیوں نے 600 تارکین وطن کو بچایا ہے جس سے رواں ہفتے بچائے جانے والے افراد کی تعداد کم از کم 13,000 ہوگئی ہے۔

اسی بارے میں