خانقاہ سے شیر کے 40 بچوں کی لاشیں برآمد

تھائی لینڈ میں حکام نے اس بودھ خانقاہ سے شیر کے 40 بچوں کی لاشیں برآمد کی ہیں جس کی انتظامیہ پر جنگلی جانوروں کی سمگلنگ اور ان سے بدسلوکی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

پولیس اور جنگلی حیات کے محکمے کے حکام نے پیر کو واٹ پھاٹا بوا ٹائیگر نامی خانقاہ میں موجود درجنوں شیروں کی منتقلی کا آپریشن شروع کیا تھا۔

٭ تھائی لینڈ کے مندر سے شیروں کی بازیابی

اس موقع پر موجود صحافیوں نے سوشل میڈیا پر جو تصاویر شائع کی ہیں ان میں شیر کے 40 بچوں کی لاشیں فرش پر پڑی دیکھی جا سکتی ہیں۔

تھائی لینڈ کے پولیس کرنل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا وائلڈ لائف حکام شیر کے 40 بچوں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد اس میں ملوث افراد کے خلاف نئے الزامات کے تحت فوجداری مقدمات درج کروائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مرنے والے شیر کے بچے ایک یا دو دن کے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ شیر کے بچے کب مرے تھے۔؟

وائلڈ لائف فرینڈز فاؤنڈیشن کے ٹام ٹیلر نے بی بی سی کو بتایا کہ شیر کے بچوں کی لاشیں خانقاہ میں موجود فریزر سے برآمد ہوئی ہیں اور وہاں سے ان کے علاوہ دیگر جانوروں کے اعضا بھی ملے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیر کو شروع ہونے والی کارروائی کے بعد اب تک خانقاہ میں موجود 137 شیروں میں سے 40 کو تھائی حکام نے باہر منتقل کر دیا ہے۔

تھائی صوبے کنچنابوری میں واقع یہ خانقاہ سیاحوں میں بہت مقبول ہے اور برسوں سے جانوروں کو یہاں سے لے جانے کے خلاف مزاحمت ہو رہی ہے۔

اس خانقاہ کے راہبوں پر غیرقانونی طور پر شیروں کی ا‌فزائش نسل اور جانوروں کی سمگلنگ کا الزام ہے۔

اسی بارے میں