فلوجہ کی جنگ: ’آپ اتنی جلدی میں کیوں ہیں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

عراقی شہر فلوجہ سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے قبضے کو ختم کرنے کے لیے عراقی فوج کے آپریشن کی قیادت کرنے والے جنرل عبدالوہاب السعدی کا کہنا ہے ’بہت کچھ ہو رہا ہے آپ اتنی جلدی میں کیوں ہیں؟‘

’کاؤنٹر ٹیررازم فورس‘ عرف گولڈن ڈویژن کی قیادت کرنے والے جنرل السعدی نے یہ بات کیمپ طارق میں کی۔

جب دولت اسلامیہ کو فلوجہ سے نکالنے کے لیے 22 مئی کو مہم کا آغاز کیا گیا تو اس وقت خیال کیا جا رہا تھا کہ چند دن یا زیادہ سے زیادہ ایک یا دو ہفتوں میں کامیابی حاصل کر لی جائے گی۔

تاہم فلوجہ کے آس پاس کے چند علاقوں میں کامیابی کے علاوہ عراقی فوج فلوجہ کے مضافات ہی میں پہنچ سکی ہے جہاں منگل کی صبح اسے دولت اسلامیہ کے بھرپور حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

یہ فلوجہ شہر کے انتہائی جنوب میں واقع نعيميہ کا علاقہ ہے۔ چند روز قبل عراقی فوج نے نعيميہ پر قبضہ کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن پھر دولت اسلامیہ کے جنگجو، خود کش بمبار اور سنائیپرز سرنگوں میں سے نکلے۔

فلوجہ کے شمال مغرب میں عراقی فوج کی پیش قدمی فلوجہ شہر سے کافی دور رک گئی ہے۔ اور عراقی فوج کی سقلاویہ میں شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

اس سے صاف ظاہر ہے کہ فلوجہ کو آزاد کرانے کی حکومتی کوشش میں ابھی وقت لگے گا اور اس کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ فوج بھرپور انداز میں فلوجہ پر کارروائی نہیں کر سکتی کیونکہ اطلاعات کے مطابق فلوجہ میں دولت اسلامیہ نے 50 ہزار شہریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

لیکن اصل بات یہ ہے کہ عراقی فوج شہر کے جیسے جیسے قریب پہنچی دولت اسلامیہ کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

جنگجوؤں کے پاس پورے دو سال تھے کہ وہ جنگ کے لیے تیار ہوتے، شہر میں سرنگوں اور بنکرز کا جال بچھاتے۔

اگرچہ ایک اندازے کے مطابق فلوجہ میں دولت اسلامیہ کے جنگجووں کی تعداد 500 سے 1200 ہی ہے لیکن کئی بار ایسا دیکھا جا چکا ہے کہ اس سے بھی کم تربیت یافتہ جنگجوؤں نے کامیابی حاصل کی ہے کیونکہ وہ اپنے علاقے کو زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں۔

اب فلوجہ ہی کا واقعہ لے لیں۔ 2004 میں جنگجوؤں نے دو ماہ تک امریکی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کو اس وقت شکست ہوئی جب امریکہ نے شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے اور فلوجہ شہر کھنڈر بن گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

عراقی فوج میں سب سے زیادہ ذمہ داری جنرل السعدی کاؤنٹر ٹیررازم فورس عرف گولڈن ڈویژن پر آتی ہے جس کو امریکہ نے تربیت دی ہے۔

لیکن اس فورس کی تعداد کم ہے اور اگر عراقی فوج کو اتنی ہی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جتنی اب ہو رہی ہے تو عراقی فوج شاید برداشت نہ کر سکے۔

فلوجہ میں کارروائی کرنے سے قبل شیعہ ملیشیا کا فوج کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا کہ وہ فلوجہ میں داخل نہیں ہو گی۔

لیکن شیعہ ملیشیا کے کمانڈر ہادی العمیری کا کہنا ہے کہ اگر فوج کامیاب نہیں ہوتی تو شیعوں کی حشد فورس فلوجہ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے۔

اسی بارے میں