اسرائیلی عدالت کا یہودی خاتون کو ملک بدر کرنے سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ

اسرائیل کی ایک عدالت نے آسٹریلیا میں بچوں سے جنسی زیادتیوں کے چوہتر الزامات کا سامنا کرنے والی ایک اسرائیلی خاتون کو ملک بدر کرنے سےانکار کر دیا ہے۔

اسرائیلی عدالت نے کہا ہے کہ اس عورت کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔

ملکہ لیفیئر نامی یہ خاتون آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں ایک یہودی سکول کی پرنسپل تھیں جو سنہ 2008 میں بچیوں سے جنسی زیادتیوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد بھاگ کر اسرائیل چلی گئیں تھیں۔

لیفیئر کا کہنا ہے کہ ان پر خوف کے دورے پڑتے ہیں جس کی وجہ سے وہ عدالت میں بھی پیش ہونے قاصر رہی ہیں۔ اسرائیل کی عدالت میں ان کو آسٹریلیا واپس بھیجے کے مقدمے کی سماعت دو سال سے تعطل کا شکار رہی ہے۔

ذہنی امراض کے ڈاکٹروں کی رپورٹس کی بنیاد پر ایک جج نے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ لیفیئر کے مقدمے کی سماعت اس وقت تک معطل رہے گی جب تک وہ ذہنی طور پر صحت یاب نہیں ہو جاتیں۔

لیفیئر نے میلبورن کے ایک قدامت پسند یہودی سکول میں مبینہ طور پر لڑکیوں کو اپنی جنسی تسکین کا نشانہ بنایا۔

یروشلم میں عدالت نے ان کی گھر پر نظر بندی کو بھی ختم کر دیا اور سنہ 2014 میں گرفتاری کے بعد وہ اب پہلے مرتبہ آزادی سے گھوم پھر سکیں گی۔ استغاثہ کے وکلا عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

جنسی جرائم میں ملوث اس خاتون کا چھ ماہ تک علاج کیا جائے گا اس کے بعد ایک کمیٹی ان کی ذہنی حالت کا معائنہ کرکے یہ فیصلہ کرے گی کہ کیا وہ مقدمہ کا سامنا کرنے کے لیے قابل ہیں۔

اسرائیل میں آسٹریلیا کے سفیر ڈیو شرما نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سنگین جنسی جرائم میں ملوث اس خاتون کو آسٹریلیا واپس لے جانے کے لیے وہ بھرپور کوشش کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ اس خاتوں کو آسٹریلیا میں عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے وہ صبر اور استقامت سے کام لیں گے۔