’نکر والےکو شادی کا لائسنس نہیں ملےگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook Minh Tri Tran

چین کے شہر بیجنگ میں شادی کی اجازت یا لائسنس کے لیے درخواست دائر کرنے کے لیے آتے وقت شادی کےخواہشمند جوڑوں کو لباس کا خاص طور پر خیال رکھنا پڑے گا ورنہ ان کی درخواست کو رد کیا جا سکتا ہے۔

شہر کی سول افیئر بیورو نے شادی کے خواہشمند جوڑوں کے لیے نئی شرائط کا اعلان کیا ہے جس کے تحت شادی کا اجازت نامہ ان جوڑوں کو جاری نہیں کیا جائے گا جو ٹی شرٹ، شارٹ یا نکر پہن کر یہ اجازت نامہ حاصل کرنے آئیں گے۔

بیجنگ کے سرکاری اخبار بیجنگ ڈیلی کے مطابق سول بیورو کے میرج رجسٹرڈ ڈائریکٹر ہان منگ ژی کا کہنا ہے کہ لوگ اس سارے طریقہ کار کا احترام نہیں کر رہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ اب عام ہو گیا ہے کہ لوگ چپلیں اور نکر پہن کر آ جاتے ہیں جسے سے ان کی نظر میں شادی کے بارے میں لاپرواہی اور اہمیت کی عکاسی ہوتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ لوگوں کا شادی کے بارے میں جو رویہ ہے اس سے بعد میں بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں۔

چین میں گذشتہ ایک دہائی سے طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سنہ 2015 میں حکومت نے کہا تھا کہ 36 لاکھ جوڑوں نے اپنا بندھن توڑ لیا۔ بیجنگ میں ہر سال پچپن ہزار طلاقیں ہوتی ہیں جو کہ ملک میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

چین کے سوشل میڈیا میں نئی شرائط کے بارے میں ملا جلا رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔ ایک ویب سائٹ نے لکھا کہ ’شادی بچوں کا کھیل نہیں اور اس کا احترام کرنا چاہیے۔‘ لیکن کچھ لوگوں کو خیال ہے کہ شادی کی درخواست دینے کو مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ بعض لوگ مکمل سادگی سے یہ رسم ادا کرنا چاہتے ہیں تو اس میں کیا ہرج ہے اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ شادی کے لائسینس کے لیے درخواست دینے کا عمل انتہائی بور اور دقت طلب ہے۔

اسی بارے میں