’انڈیا میں مذہبی عدم برداشت میں اضافہ ہو رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارتی وزیراعظم مودی اور صدر اوباما کے درمیان سات جون کو وائٹ ہاؤس میۂ ملاقات ہوگي

سات جون کو جب انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی وائٹ ہاؤس میں صدر اوباما سے ملاقات کریں گے، اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد امریکی کانگریس کا ایک کمیشن انڈیا میں انسانی حقوق کی صورت حال پر سوال و جواب کر رہا ہوگا۔

نریندر مودی امریکی کانگریس کے ایک مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کرنے والے ہیں۔

اس مشترکہ اجلاس سے ایک روز قبل ہی کانگریس کے سابق رکن ٹام لینٹاس کے نام پر قائم کیےگئے اس کمیشن کی یہ میٹنگ ہونی طے ہے۔

اس کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آزادی کے 70 برسوں کے بعد بھی انڈیا میں انسانی حقوق سے وابستہ خدشات پوری طرح برقرار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نریندر مودی امریکی کانگریس کے ایک مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کرنے والے ہیں

کمیشن کا کہنا ہے کہ انڈیا میں دلت برادری اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اب بھی جاری ہے۔

کمیشن کے مطابق انڈیا میں کئی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں، جو ان امور پر کام کرتی ہیں، ان پر حکومت کی سخت نگرانی ہے اور ان میں سے بعض تنظیموں کی فنڈنگ پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔

ان امور پر کمیشن ایک عیسائی تنظیم، ایک مسلم تنظیم، ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندوں کی رائے سنے گا۔

گذشتہ ہفتے ہی کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی نے بھی انڈیا اور امریکہ کے تعلقات پر ایک سماعت کے دوران انڈیا پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا اور ایک ایسے ملک کی تصویر پیش کی جہاں ایک کروڑ، 20 لاکھ لوگ ’غلام‘ ہیں اور جہاں خواتین کے خلاف بہت زیادتی ہوتی ہے۔

خارجہ امور کی کمیٹی نے یہ بھی کہا تھا کہ انڈیا دانستہ طور پر عیسائی تنظیموں کو نشانہ بنا رہا ہے، ان کے محققین کو پریشان کر رہا ہے اور ان کے ویزے منسوخ کر رہا ہے۔ کمیٹی کے مطابق انڈيا میں مذہبی عدم رواداری میں تیزی آ رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کے بعد مودی کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ارکان سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں اور امکان ہے کہ ان سے وہاں بھی ان معاملات پر بات چیت ہوگی

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے سے عین قبل کانگریس میں اس طرح کے بیانات اور ان کی موجودگی کے دوران انڈیا کے انسانی حقوق پر ہونے والی سماعت پر انڈین کمیونٹی کے بعض نمائندوں نے سخت نکتہ چينی کی ہے۔

امریکہ میں انڈیا کے سفارت خانے کا کہنا ہے کہ ہر ملک میں مسائل ہوتے ہیں لیکن انڈيا یہ نہیں مانتا کہ ایک ملک کو دوسرے کو تعلیم دینے کا حق حاصل ہے۔

انڈین سفیر ارون کمار سنگھ نے امریکی اور غیر ملکی میڈیا کے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے ممالک کی جو اچھی روایات ان پر بات کرنے اور انھیں اپنانے سے بھارت کو پرہیز نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

لیکن مودی کے دورے کے دوران ان سوالات کو اٹھائے جانے کے معاملے پر ارون کمار سنگھ نے طنز کرتے ہوئے کہا: ’عام طور پر انڈیا میں ہم ایسا کچھ نہیں کرتے جس سے ہمارے مہمان شرمندہ ہوں لیکن مجھے لگتا ہے کہ کچھ معاشروں میں ایسا کیا جاتا ہے۔‘

کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کے بعد مودی کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ارکان سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں اور امکان ہے کہ ان سے وہاں بھی ان معاملات پر بات چیت ہوگی۔

اسی بارے میں