یوکرینی فوج اور باغیوں دونوں نے تشدد کیا: اقوامِ متحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشرقی یوکرین میں اپریل 2014 میں شروع ہونے والی اس لڑائی میں ہزاروں لوگ مارے گئے

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ مشرقی یوکرین میں تنازع کے دوران یوکرینی فوج اور روس نواز باغیوں دونوں ہی کی جانب سے بڑے پیمانے پر اغوا اور تشدد کے واقعات سرزرد ہوئے ہیں۔

ادارے کے مطابق 9400 افراد اس لڑائی کے دوران مارے گئے۔

ماضی میں بھی باغیوں کی جانب سے تشدد کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ لیکنب کیئف میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اقوامِ متحدہ نے نے واضح الفاظ میں یوکرین کے سکیورٹی اداروں پر بھی تشدد کا الزام عائد کیا ہے۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ تمام الزامات اس کے بقول مجرموں کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں۔

یوکرین میں حکومت مخالف مظاہرے نومبر 2013 میں اس وقت شروع ہوئے تھے جب سابق صدر یانوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے روس کے ساتھ تجارتی معاہدے کو ترجیح دی تھی۔

روس سے متصل مشرقی یوکرین میں روسی نواز باغیوں کی علیحدگی کے تحریک کے بعد اپریل میں یوکرین نے اس تحریک کو کچلنے کے لیے اپنی فوج علاقے میں بھیجی تھی اور اس کے بعد کئی ماہ تک ہونے والی لڑائی میں دونیتسک اور لوہانسک کا علاقہ باغیوں کے قبضے میں آ گیا تھا۔

مشرقی یوکرین میں اپریل 2014 میں شروع ہونے والی اس لڑائی میں ہزاروں لوگ مارے گئے۔

اسی بارے میں