گوریلے کی ہلاکت: ’بچے کی ماں پر الزام نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بچے کو بچانے کے لیے 17 سالہ گوریلہ ہمرابی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا

امریکی شہر سنسناٹی کے چڑیا گھر میں تین سالہ بچے کو بچانے کے لیے گوریلے کی ہلاکت کے بعد پراسیکیوٹر نے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ خندق میں بچے کے گرنے کے واقعے کے باعث اس کی والدہ کو الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

خیال رہے کہ بچہ سنیچر کو ایک رکاوٹ پر چڑھتے ہوئے گوریلے کے احاطے میں خندق میں گر گیا تھا جہاں گوریلے نے اسے پکڑ لیا اور گھسیٹ کر لے گیا۔

گوریلے کی ہلاکت کی تحقیقات

حکام نے بتایا تھا کہ 180 کلوگرام کے گوریلا کو اس وقت گولی مار دی جب ’حالات قابو سے باہر ہو گئے اور بچے کی جان کو خطرہ لاحق ہو گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بچے کی والدہ کو واقعے کا ذمہ قرار دیا جا رہا ہے

پیر کو پراسیکیوٹر نے کہا کہ بچے کی والدہ کسی قسم کے الزامات کا سامنا نہیں کریں گے۔

یہ بھی بتایا گیا تھا کہ 17 سالہ گوریلے ’ہرامبی‘ نے بچے کو تقریباً دس منٹ تک کھینچا ہے۔

پراسیکیوٹر جوئی ڈیٹر کا کہنا ہے کہ ماں کو اس واقعے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انھوں نے بتایا کہ بچہ بھاگتے ہوئے اس وقت آگے نکل گیا جب اس کی والدہ دیگر تین بچوں کو دیکھ رہی تھیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بچے کی والدہ بچے کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی تھیں۔

فیصلے کے بعد خاتون کے اہلِ خانہ نے کہا کہ وہ بہت خوش ہیں اور فیصلہ وہی ہوا جس کی انھیں توقع تھی۔

لیکن دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بچے کی والدہ کو بہت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

فیس بک پر ایک آن لائن پٹیشن میں پانچ لاکھ کے قریب افراد نے دستخط کیے جس میں بچے کی والدہ کو ذمہ دار ٹھرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ادھر توقع کی جا رہی ہے کہ چڑیا گھر کو منگل کھول دیا جائے گا۔

اسی بارے میں