چین کو سٹیل کی اضافی پیداوار پر تنبیہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چین دنیا میں سٹیل کی طلب کا نصف پیدا کرتا ہے

امریکی وزیر خزانہ نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سٹیل کی ضرورت سے زائد پیداوار کو کم کرے کیونکہ اس سے عالمی منڈی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

امریکی وزیر خزانہ جیک لیو نے بیجنگ میں امریکہ اور چین کے درمیان تجارت اور سکیورٹی سے متعلق شروع ہونے والی بات چیت سے پہلے کہا کہ سٹیل کی ضرورت سے زیادہ پیداوار چینی معیشت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

خیال رہے کہ دنیا میں چین سٹیل کی پیداوار میں سرفہرست ہے اور اس پر عالمی منڈی کی قیمتوں سے کم قیمت پر سٹیل کی مصنوعات فروخت کرنے کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔

امریکی خزانہ کے بقول ضرورت سے زیادہ پیداوار آخرکار چینی معیشت کی کارکردگی کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی۔

’اس کا مطلب ہے کہ آپ وسائل کا صحیح استعمال نہیں کرتے، اس کا مطلب کا ہے کہ بلآ آخر آپ مال کو مارکیٹ سے کم قیمت پر فروخت کریں گے اور یہ عالمی منڈی کی قیمتوں سے بھی کم ہوں گی۔‘

جیک لیو نے کہا کہ ضرورت سے زیادہ سٹیل کی پیداوار چین کا صرف اندرونی مسئلہ نہیں جو دنیا میں سٹیل کی ضروریات کا نصف پیدا کرتا ہے۔

یورپ میں سٹیل تیار کرنے والی کمپنیوں کو یورپی منڈی میں چین کی کم قیمت سٹیل مصنوعات کی بھرمار پر تشویش ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان سٹیل کی قیمتوں میں شدید گراؤٹ کا سبب بن سکتا ہے۔

رواں برس کے شروع میں بھارتی سٹیل فیکٹری ٹاٹا نے اعلان کیا تھا کہ وہ نقصان کے سبب برطانیہ میں اپنے کاروبار کو فروخت کر رہا ہے اور اس کی وجہ سے ہزاروں ملازمتوں کے ختم ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس نے کہا تھا کہ عالمی بازار میں ضرورت سے زیادہ سٹیل کی سپلائی اور اس کی یورپ درآمد جیسے دو بڑے عوامل کی وجہ سے اسے برطانیہ میں طویل عرصے تک سٹیل مصنوعات میں مقابلے کو برقرار رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔

خیال رہے کہ برطانیہ نے 2013 میں چین سے تین لاکھ تین ہزار ٹن سٹیل کی مصنوعات درآمد کی تھیں جبکہ 2014 میں یہ مقدار بڑھ کر چھ لاکھ 87 ہزار ٹن ہو گئی تھی۔

اسی بارے میں