جاپانی بچے نے اپنے والد کو ’معاف کر دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یاماتو نے چھ راتیں تنہا گزاریں

جنگل میں تنہا چھ راتیں گزارنے والے سات سالہ جاپانی بچے کے والد نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے نے انھیں معاف کر دیا ہے۔

سات سالہ بچے یاماتو تنُوکا کو ان کے والدین نے سزا کے طور پر گھنے جنگل میں چھوڑ دیا تھا جہاں اس نے چھ راتیں تنہا بسر کیں۔

٭ یاماتو تنُوکا جنگل میں کیسے زندہ رہا؟

44 سالہ تاکایوکی تنُوکا اور ان کی اہلیہ نے شمالی جزیرے ہوکیدو میں 28 مئی کو یاماتو کو ایک سڑک کے کنارے سزا کے طور پر تنہا چھوڑ دیا تھا۔

جب وہ واپس آئے تو بچہ وہاں نہیں تھا۔ بچے کو بڑے پیمانے پر تلاش کیا گیا اور بالآخر وہ جمعے کو ایک فوجی اڈے پر ملا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یاماتو دو گدوں کے درمیان سوتا رہا

اس واقعے نے جاپان میں بچوں کی پرورش کے بارے میں ایک بحث چھیڑ دی ہے۔

یاماتو تنُوکا نے ٹی بی ایس نامی نشریاتی ادارے کو پیر کو ایک انٹریو میں بتایا: ’میں نے اس سے کہا کہ ڈیڈی کے سبب آپ کو اتنی مشکلات سے گزرنا پڑا۔ میں معذرت خواہ ہوں۔‘

اس کے بعد میرے بیٹے نے کہا: ’آپ ایک اچھے ابا ہو میں آپ کو معاف کرتا ہوں۔‘

یاماتو تنُوکا کو فی الحال طبی معائنے کے لیے ہسپتال میں رکھا گیا ہے اور امید ہے کہ اسے منگل کو وہاں سے چھٹی مل جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بچے کو وسیع پیمانے پر جنگل جنگل تلاش کیا گیا تھا

مینیچی اخبار کے مطابق بچے نے کہا کہ رونے کی وجہ سے وہ سمت کا اندازہ نہیں لگا سکا اور پانچ گھنٹے تک چلتے رہنے کے بعد اس گھر میں پہنچا جہاں وہ دو گدّوں کے درمیان سویا اور کسی سے اس کی ملاقات نہیں ہوئی۔

اس نے بتایا کہ اس نے وہاں پرموجود ایک نلکے سے پانی پیا لیکن چھ دنوں تک کچھ نہیں کھایا۔

اخبار کے مطابق جب یاماتو تنُوکا ملا تو اس کے جسم میں پانی کی قدرے کمی تھی، وہ بھوکا تھا ہاتھ پاؤں پر رگڑ کے نشان تھے لیکن بظاہر وہ صحت مند تھا۔

پولیس نے کہا ہے کہ وہ بچے کے والدین کے خلاف مقدمہ درج نہیں کرے گی۔

اسی بارے میں